بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

اسکول استاذ کا اپنی ڈیوٹی کسی اور کے حوالہ کرنا


سوال

اگر کوئی استاد اپنی جگہ کسی دوسرے کو اسکول ڈیوٹی کے لیے بھیجا کرےاور وہ صحیح ڈیوٹی بھی دےتو کیا اس استادکے لیے تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہےکہ جوشخص ایک وقت میں صرف ایک ہی ادارے یا شخص کا کام کرنے کاپابند ہووہ اجیر خاص کہلاتا ہےجس کا حکم یہ ہے کہ وہ مقررہ وقت پرخود حاضر ہونے کا پابند ہوتاہے، اسی بنیاد پر وہ تنخواہ کابھی حق دار ہوتا ہے،اس کویہ اختیارنہیں ہوتا کہ اپنی جگہ کسی اور کو ڈیوٹی پرمقرر کرلے۔

صورت مسئولہ میں استاداس وقت تنخواہ لینے کا مستحق ہوگاجب خود اپنی ڈیوٹی مقرر کردہ اوقات میں انجام دے۔اپنی جگہ کسی دوسرے کومقرر کرنااور خود حاضر نہ ہوکر تنخواہ لیناجائز نہیں۔

 

والأجير الخاص:الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة.(الهداية،كتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر،ج:3،ص:312)

الأجیر الذي استؤجر علی أن یعمل بنفسه لیس له ان يستعمل غيره.(شرح المجلة لسلیم رستم باز،المادۃ:571،کتاب الإجارۃ،الباب السادس،الفصل الرابع فی إجارۃ الآدمی،ج:1،ص:306)


فتویٰ نمبر : 3837/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں