بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نسبی بہن کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا


سوال

فائضہ نامی لڑکی جو کہ بخت جہانہ بی بی کی رضاعی بیٹی ہے، اب فائضہ کا نسبی بھائی دلاور بخت جہانہ بی بی کی بیٹی مہناز سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کیا  دلاور کا نکاح بخت جہانہ بی بی کی بیٹی مہنازسے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے والے بچے کے لیے دودھ پلانے والی عورت اوراس کے اصول و فروع سے نکاح جائزنہیں، لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے بچے کے ساتھ خاص ہوتی ہے، اس کے بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق دلاور کی نسبی بہن فائضہ نے جب بخت جہانہ بی بی کا دودھ پیا ہے، تو اس پربخت جہانہ بی بی کے اصول و فروع سب حرام ہیں، البتہ اس کے بھائیوں اوربہنوں پرحرام نہیں، اس لیے دلاور کا نکاح بخت جہانہ بی بی کی بیٹی مہنازسے جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کے حرمت کی کوئی اوروجہ موجود نہ ہو ۔

 

عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة. (سنن أبي داؤد، كتاب النكاح، باب ما يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب، رقم الحديث:2055، ج:2، ص:177)

ولو ‌أرضعت ‌أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها. (المبسوط للسرخسى، كتاب الرضاع، باب تفسير لبن الفحل، ج:3، ص:301)


فتویٰ نمبر : 7203/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں