بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جمعہ کی شرائط کابیان اوربعض بے بنیاد دلائل کے جوابات


سوال

ہمارے  علاقے کے اکثر علماء گاؤں دیہات میں جہاں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں پھر بھی جمعہ شروع کر دیتے ہیں اور مندرجہ ذیل قسم کے دلائل کا سہارا لیتے  ہیں : 1۔امام اعظم کے مسلک کے مطابق جمعہ کی جو شرائط بیان کی جاتی ہیں یہ شرائط اس زمانے کے اعتبار سے تھیں، وجہ یہ ہے کہ چونکہ جمعہ کی نماز قاضی یا حاکم پڑھاتا تھا اور ہر جگہ قاضی یا حاکم نہیں ہوتا تھا اس لیے جمعہ کی نمازیں دوردرازعلاقوں میں پڑھی جاتی تھیں۔ 2۔ دوسری بات یہ ہے کہ گاؤں دیہات میں جمعہ اس لیے بھی شروع کر دینا چاہیے تاکہ لوگ جو گمراہ ہورہےہیں وہ گمراہی سے بچ جائیں، اور جو لوگ شہر میں جا کر جمعہ ادا نہیں کرتے تو وہ لوگ بھی  اس بہانے سے  جمعہ میں شرکت کر لیں گے اور اس بات پر مختلف علماء کے حوالے سےبیانات بھی پیش کرتے ہیں ، ۔3۔ ان علماء کا کہنا ہے کہ جمعہ کی جو شرائط بیان کی جاتی ہیں قرآن و حدیث سے ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔اب سوالات یہ ہیں کہ :1۔ کیاان لوگوں کی اس پہلی دلیل کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب جمعہ کےلیے ان شرائط کا پایاجانا ضروری نہیں ہے؟ ۔2۔ محض لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے یا جمعہ میں شریک کرنے کے لیے اس طرح گاؤں میں جمعہ شروع کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟۔ 3۔اس تیسری  دلیل  کی کیا حیثیت ہے؟ براہ کرم ہر ہر شق کی تفصیلی جوابات مرحمت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ فقہاے کرام نے جمعہ کےلیے سات شرائط بیان کی ہیں:شہرہو،حاکم یااس کا نائب ہو، ظہر کاوقت ہو،خطبہ جمعہ پڑھا جائے، خطبہ نماز سے پہلے پڑھاجائے، نماز جماعت سے پڑھی جائے اوراذن عام ہو (لوگوں کو عام اجازت ہو)۔البتہ آج کل کے حوالے سے حکام اور صاحب اقتدارحضرات کا جمعہ اورجماعات(جماعت کی نمازوں ) کےعدم اہتمام کی وجہ سےجمعہ کے وجوب کےلیے  حاکم کی موجودگی کوشرط ٹھہراناچونکہ عملا مشکل ہے، نیز یہ شرط لوگوں کو اختلاف وانتشار سے بچانے کےلیے مقرر کی گئی تھی، لہذا اب اگر شہر یا محلے کے لوگ کسی شخص پر متفق ہوجائیں ،تو بھی مذکورہ مصلحت حاصل ہونے کی وجہ سے بغیر حاکم کے بھی جمعہ پڑھنا واجب ہوگا۔

نیزمصر( شہر)ان اصطلاحات میں سے ہے کہ کتاب وسنت میں اس کی تحدید وتعیین نہیں کی گئی ہے،بلکہ  اس کا مدار عرف پرہے،اسی وجہ سےمصر (شہر) کے بارے میں  فقہاے کرام سے اپنے اپنےزمانے کے  عرف اورحالات کے مطابق  مختلف اقوال منقول ہیں۔

نیزیہ بھی یاد رہے کہ جمعہ کےلیے جو شرائط فقہاے کرام نے بیان کی ہیں یہ کسی خاص زمان ومکان کےساتھ خاص نہیں، بلکہ کسی بھی جگہ میں جمعہ پڑھنے کےلیے ان شرائط کی رعایت ضروری ہے، لہذا جس علاقےمیں  متذکرہ بالا شرائط نہ پائی جائیں تووہاں جمعہ کی نماز شروع کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

نیز یہ بھی یاد رہے کہ فقہا کےذکرکردہ جمعہ کی سات شرائط میں سے چھ(شہرکاہونا،حاکم یااس کا نائب ہونا، ظہر کاوقت ہونا،خطبہ جمعہ پڑھنا، خطبہ نماز سے پہلے پڑھنا، نماز جماعت پڑھنا) کا ذکر احادیث مبارکہ میں صراحت سے ملتا ہے جن کو فقہاے کرام نے اپنی کتابوں میں نقل کیاہے،اورایک شرط(اذن عام کا ہونا) آیت قرآنیہ(﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ﴾ [الجمعة: 9] ) سے مستنبط ہے،لہذاان کو قرآن وحدیث کےمتصادم قراردینادرست نہیں۔

صورت مسئولہ کے جوابات درج ذیل ہیں:1۔ امام صاحب کے مذہب میں منقول جمعہ کی شرائط کی ایسی بے بنیاد اورمن گھڑت تاویل درست نہیں ہے اورنہ ہی اس کی بناپر جمعہ کی شرائط ناقابل عمل ہوسکتی ہیں۔

2۔اگر کسی علاقے میں جمعہ کی پوری شرائط نہ پائی جائیں تومحض لوگوں کی شرکت کے واسطے جمعہ شروع نہ کرناچاہیے ،بلکہ ان لوگوں کو وعظ وتبلیغ کے ذریعے اعمال

پر لانے کی کوشش کی جائےاورتعلیم اورترغیب کے ذریعے سے  ان کی اصلاح کرنی چاہیے۔

3۔یہ بات کہنا کہ " ان شرائط کاقرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں" درست نہیں ، یہ طرز عمل  فقہاے اسلام کی انتھک محنتوں اورکوششوں پر سے اعتماد اٹھاتا ہے، لہذا ایسی بے بنیاد جرات کا مظاہر بالکل نہیں کرنا چاہیے۔

 

قال الله تبارك وتعالی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ [الجمعة: 9] 

شرط أدائها المصر وهو كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود أو مصلاه...والسلطان أو نائبه ووقت الظهر فتبطل بخروجه والخطبة قبلها...والجماعة وهم ثلاثة سوى الإمام... والإذن العام.(كنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، ص: 189)

ونظمها بعضهم، فقال: وحر صحيح بالبلوغ مذكر            مقيم وذو عقل لشرط وجوبها       ومصر وسلطان ووقت وخطبة          وإذن كذا جمع لشرط أدائها.

ط: عن أبي السعود ... عن أبي حنيفة: أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح.(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعة، ج:2، ص:137)

وظاهر المذهب في بيان حد المصر الجامع ‌أن ‌يكون ‌فيه ‌سلطان ‌أو ‌قاض ‌لإقامة ‌الحدود وتنفيذ الأحكام. وقد قال بعض مشايخنا رحمهم الله تعالى أن يتمكن كل صانع أن يعيش بصنعته فيه ولا يحتاج فيه إلى التحول إلى صنعة أخرى وقال ابن شجاع - رضي الله تعالى عنه - أحسن ما قيل فيه إن أهلها بحيث لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا إلى بناء مسجد الجمعة فهذا مصر جامع تقام فيه الجمعة ثم في ظاهر الرواية لا تجب الجمعة إلا على من سكن المصر والأرياف المتصلة بالمصر.(المبسوط للسرخسي، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعة، ج:2، ص:23)

فأما إذا لم يكن إماما بسبب الفتنة أو بسبب الموت ولم يحضر وال آخر بعد حتى حضرت الجمعة ذكر الكرخي أنه لا بأس أن يجمع الناس على رجل حتى يصلي بهم الجمعة.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الصلاۃ، فصل صلاۃ الجمعة، فصل بیان شرائط الجمعة، ج:1، ص:261)ْ

ولو تعذر الاستئذان من الإمام فاجتمع الناس على رجل يصلي بهم الجمعة جاز، كذا في التهذيب.(الفتاوى الهندية، کتاب الصلاۃ، الباب السادس العشر: في صلاۃ الجمعة، ج:1، ص:146)

(المادة 30) :درء المفاسد أولى من جلب المنافع.أي: إذا تعارضت مفسدة ومصلحة يقدم دفع المفسدة على ‌جلب ‌المصلحة. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المقالة الثانية في بیان القواعد الکلية الفقهية، المادۃ: 30، ج:1، ص:41)

‌‌باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة...عن ابن عمر قال: « كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة قائما. ثم يجلس. ثم يقوم. قال: كما يفعلون اليوم ».(صحيح مسلم، کتاب الجمعة، ‌‌باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة، ج:3، ص:9)

عن ابن عباس، أنه قال: إن أول جمعة جمعت بعد جمعة في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد عبد القيس بجواثى من البحرين...لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام "لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع...ولا يجوز إقامتها إلا للسلطان أو لمن أمره السلطان " لأنها تقام بجمع عظيم وقد تقع المنازعة في التقدم والتقديم وقد تقع في غيره فلا بد منه تتميما لأمره...ومن شرائطها الوقت فتصح في وقت الظهر ولا تصح بعده " لقوله عليه الصلاة والسلام " إذا مالت الشمس فصل بالناس الجمعة...ومنها الخطبة " لأن النبي صلى الله عليه وسلم ما صلاها بدون الخطبة في عمره " وهي قبل الصلاة بعد الزوال " به وردت السنة "...ومن شرائطها الجماعة  لأن الجمعة مشتقة منها.(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الصلاۃ، باب الجمعة، ج:1، ص:82)

(ولنا) قوله عليه الصلاة والسلام «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع» وقال علي - رضي الله تعالى عنه - لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ولأن الصحابة حين فتحوا الأمصار والقرى ما اشتغلوا بنصب المنابر وبناء الجوامع إلا في الأمصار والمدن وذلك اتفاق منهم على أن المصر من شرائط الجمعة...وأما الوقت فمن شرائط الجمعة يعني به وقت الظهر لما روي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما بعث مصعب بن عمير - رضي الله تعالى عنه - إلى المدينة قبل هجرته قال له: إذا مالت الشمس فصل بالناس الجمعة» «وكتب إلى سعد بن زرارة - رحمه الله تعالى -: إذا زالت الشمس من اليوم الذي يتجهز فيه اليهود لسبتهم فازدلف إلى الله تعالى بركعتين» والذي روى ابن مسعود «أقام الجمعة ضحى» معناه بالقرب منه ومقصود الراوي أنه ما أخرها بعد الزوال...(قال) والخطبة من شرائط الجمعة لحديث ابن عمر وعائشة رضي الله عنهما إنما قصرت الجمعة لمكان الخطبة ولظاهر قوله تعالى {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] يعني الخطبة، والأمر بالسعي دليل على وجوبها ولأن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما صلى الجمعة في عمره بغير خطبة فلو جاز لفعله تعليما للجواز...(قال) والجماعة من شرائطها لظاهر قوله تعالى {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] ولأنها سميت جمعة وفي هذا الاسم ما يدل على اعتبار الجماعة فيها...وفي الأثر «أربع إلى الولاة منها الجمعة» ولأن الناس يتركون الجماعات لإقامة الجمعة ولو لم يشترط فيها السلطان أدى إلى الفتنة.(المبسوط للسرخسي، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعة، ج:2، ص:23-24-25)

(قوله ‌والإذن ‌العام) وهي رواية النوادر وإنما كان هذا شرطا؛ لأن الله تعالى شرط النداء لصلاة الجمعة بقوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] والنداء للإشهار، وكذا تسمى جمعة لاجتماع الناس فيها فاقتضى أن يكون الجماعات كلها مأذونين تحقيقا لمعنى الاسم.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعة، شرط أدائها، ج:1، ص:221)


فتویٰ نمبر : 10608/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں