بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لئے بنائی گئی "سردوائی" کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا


سوال

ہمارے علاقے میں لوگ زمین کے اندر کھدائی کرکے اوپر چھت ڈال کر ایک کنواں نما کمرہ بناتے ہیں اور پانی وہاں سٹور کرکے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ جسے علاقائی زبان میں "سردوائی" کہا جاتا ہے۔ یہی ترتیب ہمارے ہاں مساجد میں بھی اپنائی جاتی ہے۔بعض مقامات میں مساجد کے آس پاس کے گھرانے والے مسجد کے "سردوائی " سے پانی لاکر اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرتے ہیں خاص کر جب کبھی پانی کی قلت ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مسجد کے لیے بنائی گئی اس "سردوائی" سے پانی لاکر اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ واقف اگر کوئی چیز وقف کرتے وقت  کوئی شرط رکھ دے اور وہ شریعت کے خلاف نہ ہو ،تو اس شرط کی رعایت لازم ہوگی،تاہم جہاں کسی چیز کے بارے  میں واقف کی شرط معلوم نہ ہو یا واقف نے مفاد عامہ میں  استعمال کی اجازت دی ہو تو اس صورت میں مخصوص مصارف کے علاوہ میں مفاد عامہ میں بھی وہ چیزاستعمال کی جاسکتی ہے۔

 لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق مسجد  کے لیے بنائی گئی اس"سردوائی "کے پانی میں واقف کی شرط کا اعتبارہو گا اگرپانی کا انتظام کرنے والے واقف یا مسجد کمیٹی کی جانب سے پانی صرف مسجد کے لیے ہواور اس کو باہر لے جانے کی اجازت نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس پانی کو ذاتی استعمال کے لیے مسجد سے باہر(گھر وغیرہ) لے جانا درست نہیں۔ البتہ  اگر واقف یا مسجد کمیٹی کی جانب سے اس کی  اجازت ہو کہ ذاتی استعمال بھی کیا جاسکتا ہے تو ایسی صورت میں مسجد کے لیے بنائی گئی اس "سردوائی" سے پانی لاکر اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا جائز ہے، تاہم  مسجد کی ضروریات کو بہرحال  مقدم رکھا جائے گا۔ 

ويكره ‌رفع ‌الجرة من السقاية وحملها إلى منزله، لأنه وضع للشرب لا للحمل، كذا في محيط السرخسي.وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلافلا.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر، ج:5،ص:341)

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به.(الأشباه والنظائر،كتاب الوقف،شرط الواقف كنص الشارع،ص:163)

مراعاة ‌غرض ‌الواقفين ‌واجبة (ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،مطلب في المصادقة على النظر،ج:4،ص:445)


فتویٰ نمبر : 6318/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں