بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پراویڈنٹ فنڈ کا حکم


سوال

ہمارے مدرسہ کو ایک کمپنی چلا رہی ہے۔ کمپنی جہازوں کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ جہاں تک ہماری معلومات ہیں، کمپنی کا کاروبار حلال ہے۔ کمپنی نے مدرسہ کے لیے دو جہاز اور ایک عمارت عطا کی ہے۔ جہازوں اور عمارت سے حاصل ہونے والی آمدنی  مدرسہ کے اخراجات پر صرف ہوتی ہے۔ نیز کمپنی مدرسہ کے مختلف اخراجات بھی برداشت کرتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ابتدا میں مدرسہ میں پراویڈنٹ فنڈ کا نظام رائج تھا اور یہ اختیاری تھا۔ بعد میں جب مدرسہ کے ذمہ دار حضرات کو معلوم ہوا کہ اختیاری پراویڈنٹ فنڈ اور اس سے حاصل ہونے والا اضافی حصہ شرعاً جائز نہیں، تو انہوں نے کمپنی سے درخواست کی کہ اسے لازمی قرار دیا جائے۔ چنانچہ کمپنی نے اسے لازمی قرار دے دیا۔ بعد ازاں کمپنی نے پراویڈنٹ فنڈ کا نظام بند کر دیا۔ پھر مدرسہ کے مہتمم نے مجلسِ عاملہ میں ایک ایجنڈے کی صورت میں پراویڈنٹ فنڈ کو دوبارہ جاری کرنے کی تجویز پیش کی۔ کمپنی نے اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے پراویڈنٹ فنڈ دوبارہ شروع کر دیا۔ مدرسہ کے ذمہ دار حضرات کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ لازمی ہوگا۔ اب دریافت کرنا یہ ہے کہ: اگر کمپنی مہتمم کی درخواست پر پراویڈنٹ فنڈ دوبارہ شروع کرتی ہے، تو کیا اس کا حکم حکومت کی جانب سے مقرر کردہ لازمی پراویڈنٹ فنڈ جیسا ہوگایا نہیں؟ یعنی اس کا لینا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سرکاری اور بعض نجی اداروں میں ملازمین کی تنخواہوں سے ایک خاص فیصد کی کٹوتی کی جاتی ہے جو ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بمع منافع یکمشت دی جاتی ہے، یہ رقم ملازمین ہی کی تنخواہوں کا حصہ ہوتا ہے، جس کے ساتھ حکومت یاکمپنی بھی اپنا کچھ حصہ ملا کر سرمایہ کاری کر جاتی ہے، پھر یہ منافع مع  اصل رقم کے ملازمین کو دیاجاتاہے، اگر ملازمین کی تنخواہوں میں سے یہ کٹوتی جبرا کی جاتی ہو تو ملازمین کے لیے اپنی اصل رقم بمع منافع لینا جائز ہے، اوراگر کٹوتی اختیاری کی جاتی ہو، لیکن کمپنی اس فنڈ کو علما کی نگرانی میں کسی حلال سرمایہ کاری میں لگاتی ہو تو بھی منافع لینا جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر کمپنی جمع شدہ پراویڈنٹ فنڈ کو علما کی نگرانی میں حلال سرمایہ کاری میں لگاتی ہو، تو ملازمین کو اس کا لینا جائز ہوگا چاہے کٹوتی اختیاری ہو یا غیر اختیاری۔

 

ثم ‌الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة ‌إما ‌بشرط ‌التعجيل، ‌أو ‌بالتعجيل، ‌أو ‌باستيفاء ‌المعقود ‌عليه، فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، ج:4،ص:443،مکتبة:دار الفکر بیروت)


فتویٰ نمبر : 4097/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں