بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسے کے طالب علموں کو مدرسے کے پیسے سے کھانے کا خرچہ دینا


سوال

ہمارے مدرسے میں طلبہ سے کوئی تعلیمی فیس نہیں لی جاتی، بلکہ مدرسے کے تمام اخراجات زکوٰۃ اور نفلی صدقات کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں۔ واجبہ زکوٰۃ کی رقم کو استعمال میں لانے کے لیے مستحق طلبہ کے ذریعے "شرعی تملیک" کروائی جاتی ہے۔مدرسے کے مطبخ (کچن) کے حساب کتاب کے مطابق فی طالب علم ماہانہ خوراک کا خرچہ 3000 روپے بنتا ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ کچھ طلبہ مدرسے کا کھانا نہیں کھاتے، بلکہ اپنے گھروں سے کھانا کھاتے ہیں (جبکہ تملیک دیگر طلبہ کی طرح ان سے بھی کروائی جاتی ہے)۔سوال یہ ہے کہ: جو طلبہ مدرسے کے مطبخ سے کھانا نہیں کھاتے، تملیک کے بعد ان کے حصے کی یہ رقم (3000 روپے) کچن فنڈ میں ڈالنے کے بجائے براہِ راست نقد (کیش) کی صورت میں انہی طلبہ کے سپرد کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی صحت کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ کسی مستحقِ زکوٰۃ کو بطورِ تملیک (مالک بنا کر) دی جائےاور جب مستحق اس رقم پر قبضہ کر لے، تو وہ شرعاً اس کا مالک بن جاتا ہے اور اسے اپنی کسی بھی ضرورت میں خرچ کرنے کا مکمل اختیار ہوتاہے۔

لہٰذاصورتِ مسئولہ کے مطابق جو طلبہ مدرسے کا کھانا نہیں کھاتے،ان کا  تملیک کے بعد کچن کے اخراجات کی رقم خود رکھنا اور مدرسے میں جمع نہ کرنا جائز ہے۔

 

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر .(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوٰۃ،باب مصرف الزكاة والعشر،ج:2،ص:344)


فتویٰ نمبر : 10992/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں