بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نماز جمعہ میں سجدہ سہو کا حکم
سوال
نمازِ جمعہ میں اگر امام سے سہو ہو جائے تو اس پر سجدۂ سہو لازم آتا ہے یا نہیں؟ یہ جو مسئلہ مشہور ہے کہ نمازِ جمعہ و عیدین میں بوجہ کثرتِ ازدحام سجدۂ سہو ساقط ہے، کثرتِ ازدحام کی کیا تعریف ہے؟ اگر امام کے ساتھ اس قدر آدمی ہوں کہ امام کی آواز ہر ایک کو با آسانی سنائی دے تو ایسی حالت میں سجدۂ سہو کرے یا نہیں؟
جواب
نمازِ جمعہ میں اگر امام سے سہو ہو جائے اور ازدحام اس قدر ہو کہ امام کو خدشہ ہو کہ سجدہ سہو کے لیے سلام پھیرے گا تو مقتدیوں کو معلوم نہ ہو سکے گا کہ یہ سلام ختمِ نماز کا ہے یا سجدۂ سہو کے لیے ہے اور اس سے مقتدیوں میں تشویش پیدا ہو جائے گی تواس صورت میں امام کو سجدۂ سہو نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم اگر ازدحام اس قدر نہ ہو، بلکہ امام سمجھتا ہو کہ مقتدیوں کو تشویش نہ ہو گی اور سب کو بہ سہولت معلوم ہو جائے گا کہ یہ سلام سجدۂ سہو کے لیے ہے، تو امام کو سجدۂ سہو کرنا چاہیے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب نماز جمعہ میں امام سے سہو ہوجائے اورامام کے ساتھ اس قدر آدمی ہوں کہ امام کی آواز ہر ایک کو با آسانی سنائی دیتی ہو اور سجدہ سہو کرنے کی صورت میں انتشار کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی حالت میں سجدۂ سہو کرنا لازم ہے۔
ولا يأتي الإمام بسجود السهو فى الجمعة والعيدين دفعا للفتنة بكثرة الجماعة...قوله:"دفعا للفتنة" أي افتتان الناس وكثرة الهرج قوله:"بكثرة الجماعة"الباء للسببية وهي متعلقة بقوله للفتنة وأخذ العلامة الواني من هذه السببية أن عدم السجود مقيد بما إذا حضر جمع كثير أما إذا لم يحضروا فالظاهر السجود لعدم الداعي إلى الترك وهو التشويش.( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص:466)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں