بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نذر میں متعین بکری کا نذر پورا ہونے سے پہلے ہلاک ہونا


سوال

ایک شخص نے  کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا، تو میں یہ بکری ذبح کروں گا،پھر جو بکری متعین کی تھی وہ اس کام کے ہونے سے پہلے مر گئی اب یہ شخص کیا کرے گا، اور اس کے ذمہ کچھ لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کام کے ساتھ نذر کو معلق کرے ، اور منذورہ چیز متعین کرے، تواس  کام  کے ہونے کی صورت میں  اس پر اسی چیز کا صدقہ لازم ہوتا ہے، چنانچہ  جس چیز کو متعین کیا ہو، اگروہ ضائع یا ہلاک ہو جائے، تو واجب کی ادائیگی کا محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوتا۔

 

صورت مسئولہ کے مطابق جب نذر کی  متعین بکری ہلاک ہوگئی، تو نذر ماننے والے کے ذمہ کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔

 

أما أصل الحكم فالناذر لا يخلو من أن يكون نذر وسمى، أو نذر ولم يسم، فإن نذر وسمى فحكمه وجوب الوفاء بما سمى، بالكتاب العزيز والسنة والإجماع والمعقول. (بدائع الصنائع،كتاب النذر، ج:6، ص:351)

فيجب إلا إذا كان عينها بالنذر بأن قال لله تعالى علي أن أضحي بهذه الشاة وهو موسر أو معسر  فهلكت أو ضاعت أنه تسقط عنه التضحية بسبب النذر؛ لأن المنذور به معين لإقامة الواجب فيسقط الواجب بهلاكه؛ كالزكاة تسقط بهلاك النصاب عندنا...وإن كان معسرا فاشترى شاة للأضحية فهلكت في أيام النحر أو ضاعت سقطت عنه وليس عليه شيء آخر لما ذكرنا أن الشراء من الفقير للأضحية بمنزلة النذر فإذا هلكت فقد هلك محل إقامة الواجب فيسقط عنه وليس عليه شيء آخر بإيجاب الشرع ابتداء لفقد شرط الوجوب وهو اليسار. (بدائع الصنائع، كتاب التضحية، ج:6، ص290)

 (قوله فعلى الغني غيرها لا الفقير) أي ولو كانت الميتة منذورة بعينها لما في البدائع أن المنذورة لو هلكت أو ضاعت تسقط التضحية بسبب النذر، غير أنه إن كان موسرا تلزمه أخرى بإيجاب الشرع ابتداء لا بالنذر،ولو معسرا لا شيء عليه أصلا. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الأضحية، ج:9، ص:471)


فتویٰ نمبر : 10993/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں