بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نصف آمدنی کےعوض گاڑی کرایہ پر دینا


سوال

عارف کوایک شخص نےاپنی گاڑی کرایہ کےساتھ اس شرط پر دی کہ عارف اسےچلائےگااور جوکمائی ہوگی وہ دونوں کےدرمیان آدھی آدھی تقسیم ہوگی،البتہ اس کےساتھ یہ شرط بھی رکھی کہ عارف ہر ماہ 5800 درہم ڈیزل کی مدمیں اداکرےگا۔شرعاًیہ معاملہ کیساہے؟               

جواب

واضح رہےکہ اپنی گاڑی کسی کوعوض کےبدلےچلانے کےلیےدینا اجارہ کہلاتاہے، اوراجارہ کی شرائط میں سےایک شرط یہ بھی ہےکہ اجرت اورمدت متعین ہو،بصورت دیگراجارہ فاسدہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں جب گاڑی کامالک اپنی گاڑی عارف کواجارہ(کرایہ)پردیتاہے،اوریہ طےکیاجاتاہےکہ مالک کوکرایہ کےطورپرحاصل ہونےوالی آمدنی کانصف حصہ ملےگااوراس کےعلاوہ عارف پریہ بھی لازم کیا جاتا ہےکہ وہ ہرماہ 5800 درہم ڈیزل کی مدمیں اداکرے،توایسی صورت میں چونکہ اجرت مجہول ہے،اس لیےیہ معاملہ شرعاًجائزنہیں۔اس کی جائزصورت یہ ہےکہ گاڑی کامالک اپنی گاڑی عارف کوایک معلوم اورمتعین کرایہ پر دے، مثلاًماہانہ5000درہم ۔اس صورت میں مالک صرف متعین کرایہ کاحق دارہوگااورگاڑی سےحاصل ہونے والی تمام آمدنی کرایہ پر لینےوالےکی ہوگی۔نیزتیل ڈالنےکاساراخرچہ عارف(کرایہ پرلینےوالے)کےذمے ہوگاچاہےوہ جتنابھی تیل استعمال کرے۔

 

ولاتصح حتى تكون المنافع معلومة،والأجرة معلومة.(الھدایة شرح بدایةالمبتدی،کتاب الإجارة،ج:2،ص:296)


فتویٰ نمبر : 4102/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں