بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل تصویرکا حکم


سوال

تصویر تو مطلقاً حرام ہے تو یہ ڈیجیٹل تصویر کس دلیل سے جائز ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ ڈیجیٹل تصویر، تصویر ہی کی ایک جدید قسم ہے، یہی وجہ ہے کہ عرف میں بھی اس کو تصویر کہا جاتا ہے۔ لہذااس پر بھی تصویر کا حکم لاگو ہوکرڈیجیٹل تصویر ناجائز ہوگی۔ البتہ ضرورت کے پیشِ نظر اس کی گنجائش ہوگی۔ نیز ضرورت کا دائرہ ہرشخص کے لیےمختلف ہوتا ہے، ممکن ہے کہ ایک عمل کسی ایک کے حق میں ضرورت ہو اور دوسرے کے حق میں ضرورت نہ رہے۔

 

عن عائشة زوجة النبي صلى الله عليه وسلم قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أصحاب هذه الصور يوم القيامة يعذبون، فيقال لهم أحيوا ما خلقتم وقال: إن البيت الذى فيه هذه الصور لا تدخله الملائكة.(صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب التجارة فيما يكره لبسه للرجال و النساء، ج:2، ص:560، الطاف ايند سنز، کراتشی)

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم، الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان فإنه قال: قال أصحابنا و غيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث. (البحر الرائق، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:48، دارالكتب العلمية، بيروت)

الضرورات تبيح المحظورات. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:42، ايچ ايم سعيد كمپنی، کراتشی)


فتویٰ نمبر : 6691/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں