بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

AIبوٹس تیار کرنے والی کمپنی میں ملازمت کرنا


سوال

میں ایک ایسی کمپنی میں کام کرتا ہوں جو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خودکار کال کرنے والے بوٹس تیار کرتی ہے۔ ہماری کمپنی کے گاہک پاکستان کے وہ کال سینٹرز ہیں جو امریکہ کی انشورنس کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔  اگر ان کوانشورنس  کا گاہک دلا دے ، تو امریکی انشورنس کمپنی کال سینٹر کو کمیشن یا معاوضہ دیتی ہے، ہماری کمپنی کا کام ان کال سینٹرز کے لیے AI بوٹس بنانا، انہیں ان کے نظام کے ساتھ جوڑنا، ان کی نگرانی کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہے۔ یہ بوٹس صرف انشورنس سے متعلق  ابتدائی معلومات دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔بعد میں اگر کوئی انشورنس کا رغبت ظاہر کرے تو اس کی کال کال سینٹرز والوں کی طرف منتقل کرتا ہےاور وہ ڈیل کرتا ہے ۔ مزید یہ کہ ان کال سینٹرز میں کام کرنے والے بہت سے نمائندے اپنے اصل نام استعمال نہیں کرتے بلکہ امریکی نام اختیار کرتے ہیں، اور بعض اوقات اپنی شناخت یا مقام کے بارے میں بھی ایسا تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ امریکہ سے بات کر رہے ہوں، حالانکہ حقیقت میں وہ پاکستان میں موجود ہوتے ہیں ان کی یہ بات جائز ہے یا نہیں؟،اورکیا ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا، جومذکورہ کال سینٹرزکے لیےAI بوٹس بناتی ہو، انہیں نصب کرتی ہو، ان کو نگرانی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتی ہواس ناجائز کام میں تعاون شمار ہوگایا نہیں؟ نیز یہ کہ تنخواہ حلال ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ انشورنس  یعنی بیمہ سود، قمار اور غرر پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے بیمہ کرنا ، کروانا اور اس میں کسی درجے کی معاونت اختیار کرنا  گناہ  میں تعاون شمار ہوگا،جو کہ حرام ہے، چنانچہ اگر کوئی ادارہ  کسی بیمہ کمپنی کے لیے اسباب مہیا کرتی  ہواور اس کی مکمل نگرانی کرتی ہو،تو اس میں ملازمت کرنا جائز نہ ہوگا۔

 صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ AIبوٹس اگر صرف انشورنس کمپنی کے گاہک بڑھانے اور ان کے کاروبار کو وسعت دینے جیسے مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہوں، تو اس  کا تیار کرنا جائز نہ ہوگا اور ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا  بھی جائز نہ ہوگا ، اور تنخواه بهی حلال نہ ہوگی ،لہذا اس کے  متبادل نوکری تلاش کرنا ضروری ہے، مزید یہ کہ کال سینٹرز والوں  کا اپنے آپ کو امریکی ظاہر کرنا ایک دھوکہ ہے جو ناجائزہے۔

 

عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لعن الله آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه ". قال: وقال: " ما ظهر في قوم الربا والزنى، إلا أحلوا بأنفسهم عقاب الله عز وجل. (مسند أحمد، رقم الحديث:3809، ج:6، ص:358)

 (وآكله) متناوله قال الحرالي: عبر بالأكل عن المتناول لأنه أكبر المقاصد وأضرها ويجري من الإنسان مجرى الدم (وموكله) معطيه ومطعمه (وكاتبه وشاهده) واستحقاقهما اللعن من حيث رضاهما به وإعانتهما عليه (وهم) أي والحال أنهم (يعلمون) أنه ربا لأن منهم المباشر للمعصية والمتسبب وكلاهما آثم أحدهما بالمباشرة والآخر بالسببية. (فيض القدير للمناوي، حرف اللام، ج:5، ص:268)

أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها. فليحفظ توفيقا. (ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع، ج: 9،ص:562)


فتویٰ نمبر : 4096/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں