بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا طلاق سے انکار کرنا


سوال

میرا بیوی کے ساتھ اکثر اوقات جھگڑا رہتا ہے، اس دفعہ جھگڑا بہت شدید بڑھ گیا اور شدید لڑائی اور غصے کے دوران میں نے غصے میں پھر غیر ارادی طور پر میں نے گالیاں دیتے ہوئے کہاکہ: "تیری ماں کو بھی طلاق ہوئی تھی اور تمہیں بھی طلاق ہوگی"۔ تو جو باتیں شدید لڑائی میں منہ سے نکل رہی تھیں اس کا پتہ نہیں چل رہا تھا بیوی کا بعد میں کہنا تھا کہ شدید لڑائی اور غصے میں میں نے کہا کہ تمہیں طلاق ہے۔ جبکہ لڑائی اور غصے میں جو بھی الفاظ نکلے مجھے یاد نہیں ہیں۔ لڑائی کے دوران میں نے یہ بھی کہا کہ" جاؤ، چلی جاؤ، جہاں جانا ہے، جاؤ۔ جو کچھ لے جانا چاہو، لے جاؤ۔ اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جانا چاہتی ہو تو لے جاؤ"۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میری کوئی طلاق کی نیت نہیں تھی۔ نہ یہ ساری باتیں ارادتاً کہی ہیں۔ نہ میں نے ایسا ہوش میں کہا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ نہ ایسا کہا ہے کہ تم مجھ پر طلاق ہو۔ نہ میری طلاق کی کوئی نیت تھی۔ میری بیوی کا کہنا ہے کہ میں نے اس سے پہلے بھی لڑائی کے دوران کہا تھا کہ جاؤ طلاق ہو جاؤ۔ جبکہ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

جب زوجین کے مابین طلاق میں اختلاف پایا جائے اور عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اس کے لیے دو گواہوں کا پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں اور خاوند انکار کرے تو اس سے قسم لی جائے گی۔

صورتِ مسئولہ میں جب بیوی خاوند کے بارے میں طلاق کا دعویٰ کرتی ہے تو اگر خاوند طلاق کا اقرار کرے یا عورت اپنے اس دعوی ٰپر دو مردیا ایک مرد اور دو عورتیں بطور گواہ پیش کر دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اگر عورت کے پاس مذکورہ نصاب کے مطابق گواہ نہ ہوں تو انکار کرنے والے خاوند کو قسم دی جائے گی۔ قسم  کھا نے کے بعد بیوی کا دعویٰ رد ہوجائےگا۔

 

عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: البينة على المدعي واليمين على من أنكر. (صحيح البخاري، رقم الحديث: 6151)

وما سوى ذلك من الحقوق يقبل فيها شهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا أو غير مال" مثل: النكاح والطلاق. (الهدايه، كتاب الشهادة، ج:3، ص:116)


فتویٰ نمبر : 7454/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں