بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام مہدی کے بارے میں اہل سنت و اہل تشیع کے عقائد


سوال

میرے ذہن میں ایک اشکال ہے۔ میں نے یوٹیوب اور انٹرنیٹ پر کافی سرچ کیا، لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔ میرا سوال حضرت امام مہدی کے بارے میں ہے۔ شیعہ اور سنی کے ہاں امام مہدی میں کیا فرق ہے؟ قرآن اور سنت کی روشنی میں تفصیلاً آگاہ فرمائیں۔ نیز ہمارے گلگت میں بعض لوگ جانے انجانے میں شیعیت کی دشمنی میں امام مہدی کی توہین کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگوں کا امام غار میں چھُپ کر بیٹھا ہوا ہے وغیرہ۔ ایسے کلمات کہنا کیسا ہے؟ اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

امام مہدی علیہ الرضوان کا عقیدہ اسلامی عقائد میں سے ہے۔ اہل سنت اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایک عظیم ہستی ظہور فرمائے گی جو ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گی۔  اہل تشیع بھی امام مہدی علیہ الر ضوان  کے بارے میں یہ عقيدہ رکھتے ہيں کہ وہ آخری زمانے میں آئيں گے لیکن ان کی شخصیت اور تعیین کے بارے میں دونوں مکاتب فکر کے درمیان بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے۔

اہل سنت کے نزدیک امام مہدی علیہ الرضوان  رسول اللہ ﷺ کی عترت اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے، وہ قرب قیامت میں پیدا ہوں گے، والد کانام عبداللہ ہوگا اور اس امت کی قیادت سنبھالیں گے،  ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں  گے۔ اس کے برعکس شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مہدی بارہویں امام محمد بن الحسن العسکری ہیں، جو ان کے بقول تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے، پھرغار میں چلے گئے اور اب تک زندہ ہیں۔ ان کے نزدیک وہی آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے۔ اسی عقیدے کی بنا پر بعض شیعہ مصادر میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مرتب کردہ مصحف امام مہدی کے پاس محفوظ ہے اور وہ اپنے ظہور کے وقت اسے ظاہر کریں گے۔ گویا امام مہدی کے ظہور، ولادت اور شخصیت کے تعین میں اختلاف ہے، اہل سنت انہیں مستقبل میں پیدا ہونے والی  ہستی قرار دیتے ہیں، جبکہ شیعہ اثنا عشریہ انہیں پہلے سے موجود البتہ فی الحال غائب مانتے ہیں۔

اور بعض لوگوں کا شیعیت کی دشمنی میں امام مہدی کی توہین کرنا اور غیر مناسب کلمات کہنا جہل پر مبنی ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

 

حدثنا أحمد بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، حدثنا أبو المليح الحسن بن عمر، عن زياد بن بيان، عن علي بن نفيل، عن سعيد بن المسيب، عن أم سلمة، قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: المهدي من عترتي، من ولد فاطمة قال عبد الله بن جعفر: وسمعت أبا المليح، يثني على علي بن نفيل، ويذكر منه صلاحا.(سنن أبي داود، كتاب المهدي، رقم الحديث:4284، ج:4، ص:107)

حدثنا مسدد، أن عمر بن عبيد، حدثهم، ح وحدثنا محمد بن العلاء، حدثنا أبو بكر يعني ابن عياش، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، ح وحدثنا أحمد بن إبراهيم، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا زائدة، ح وحدثنا أحمد بن إبراهيم، حدثني عبيد الله بن موسى، عن فطر، المعنى واحد، كلهم عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو لم يبق من الدنيا إلا يوم - قال زائدة في حديثه: لطول الله ذلك اليوم، ثم اتفقوا - حتى يبعث فيه رجلا مني - أو من أهل بيتي - يواطئ اسمه اسمي، واسم أبيه اسم أبي  زاد في حديث فطر: يملأ الأرض قسطا، وعدلا كما ملئت ظلما وجورا وقال: في حديث سفيان: لا تذهب، أو لا تنقضي، الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي، يواطئ اسمه اسمي. قال أبو داود: لفظ عمر وأبي بكر بمعنى سفيان.(سنن أبي داود، كتاب المهدي، رقم الحديث:4282، ج:4، ص:106)

حدثنا سهل بن تمام بن بزيع، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المهدي مني، أجلى الجبهة، أقنى الأنف، يملأ الأرض قسطا وعدلا، كما ملئت جورا وظلما، يملك سبع سنين.(سنن أبي داود، كتاب المهدي، رقم الحديث:4285، ج:4، ص:107)

وإنما اتفق وقوع الخلافة المتتابعة بعد النبوة في ثلاثين سنة، ثم قد كان بعد ذلك خلفاء راشدون منهم: عمر بن عبد العزيز، ومنهم المهتدي بأمر الله العباسي، ومنهم المهدي المبشر بوجوده في آخر الزمان. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب المناقب، ج:16، ص:74)

محمد بن يحيحي، عن محمد بن الحسن، عن عبد الرحمن بن أبي هاشم، عن سالم بن سلمة قال: قرأ رجل على أبي عبد الله عليه السلام وأنا أستمع حروفاً من القرآن ليس على ما يقرأها الناس، فقال أبو عبد الله عليه السلام: كف عن هذه القراءة اقرأ كما يقرأه الناس حتى يقوم القائم، فإذا قام القائم قرأ كتاب الله عز وجل على حدة، وأخرج المصحف الذي كتبه علي عليه السلام، وقال: أخرجه علي عليه السلام إلى الناس حين فرغ منه وكتبه، فقال لهم: هذا كتاب الله عز وجل كماأنزله الله على محمد صلى الله عليه وآله، قد جمعته من اللوحين، فقالوا: هو ذا عندنا مصحف جامع فيه القرآن، لا حاجة لنا فيه، فقال: أما والله ما ترونه بعد يومكم هذا أبداً إنما كان عليّ أن أخبركم حين جمعته لتقرؤوه.(اصول كافي، كتاب فضل القرآن، ج:2، ص:633)

فإنهم يدعون أن الإمام المنتظر، محمد بن الحسن العسكري، الذي دخل السرداب في زعمهم، سنة ستين ومائتين، أو قريبا من ذلك بسامرا! وقد يقيمون هناك دابة، إما بغلة وإما فرسا، ليركبها إذا خرج! ويقيمون هناك في أوقات عينوا فيها من ينادي عليه بالخروج. يا مولانا، اخرج! يا مولانا، اخرج! ويشهرون السلاح، ولا أحد هناك يقاتلهم! إلى غير ذلك من الأمور التي يضحك عليهم فيها العقلاء! (شرح العقيدة الطحاوية، الحج و الجهاد ماضيان إلى قيام الساعة، ج:2، ص:556)


فتویٰ نمبر : 6699/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں