بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایجنسی والوں سے ادھار خریدے گئے ٹکٹ آگے فروخت کرنا


سوال

زید ٹکٹنگ کا کاروبار کرتا ہے اور وه ایجنسی والے سے ٹكٹ ادھار خرید لیتا ہے اور پھر کسٹمر پر بیچ کر اس سے پیسے لے کر وہ ایجنسی والے کو دے دیتا ہے تو کیا یہ بیع جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہوائی سفر کا ٹکٹ حقیقت میں متعین منفعت کی خرید و فروخت ہے اور منفعت کی بیع فقہی اعتبار سے اجارہ ہوا کرتا ہے۔ نیز جس شخص کو کسی منفعت کی ملکیت حاصل ہو جائے، تو اسے خود اس سے فائدہ اٹھانے یا دوسرے کی طرف بالعوض یا بلا عوض منتقل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں زید کے لیے ایجنسی والوں سے ادھار ٹکٹ لینا پھر کسی اور کو بیچنا اور اس سے قیمت وصول کرکے وہی رقم ایجنسی والوں کو دینا جائز ہے۔

 

حتى لو آجر حانوتا في صف الحدادين من حداد يدخل عمل الحدادة فيه من غير تسمية للعادة، وإنما كان له أن يؤاجر من غيره ويعير؛ لأنه ملك المنفعة فكان له أن يؤاجر من غيره بعوض وبغير عوض. )بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 183)

كل ما لا يختلف باختلاف المستعملين فالتقييد فيه لغومثلا  لو استأجر أحد دارا على أن يسكنها له أن يسكن غيره فيها.(مجلة الأحكام العدلية،المادة:428،ص:82)


فتویٰ نمبر : 4112/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں