بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حکومت کی مقرر کردہ تنخواہ کی بجائے باہمی رضامندی سے معاملہ طے کرنا


سوال

حقوق العباد کے حوالے سے مختلف حکومتی قوانین موجود ہیں، مثلاً چھٹیوں کی تعداد، کم سے کم تنخواہ اور اوور ٹائم کے حساب کا طریقہ کار۔ اس کے علاوہ بھی جو قوانین براہِ راست حقوق العباد سے متعلق ہیں، ان کا کیا حکم ہے،اگر کوئی کمپنی ان قوانین کی رعایت نہ کرے اور ملازم کے ساتھ باہمی رضامندی سے ایک تنخواہ طے کرے جو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت (Minimum Wage) سے کم ہو، یا حکومتی قوانین کے مطابق اوور ٹائم نہ دے، اور ایک طویل عرصہ اسی طرح گزر جائے؟ تواب سوال یہ ہے کہ پچھلا جو عرصہ گزر چکا ہے: 1۔کیا کمپنی پر شرعاً و قضاءً یہ لازم ہوگا کہ وہ ماضی کے تمام مہینوں کی اس کمی (قانونی اجرت اور ادا کردہ تنخواہ کے فرق) کا حساب لگا کر ملازم کو ادا کرے؟ 2۔يا چونکہ فریقین باہمی رضامندی سے وہ معاملہ کر چکے ہیں، اس لیے اب پچھلے عرصے کا کچھ بھی ادا کرنا کمپنی پر لازم نہیں ہوگا اور وہ معاملہ وہیں ختم شمار ہوگا؟ 3۔نیز کم از کم اجرت کا حکومتی قانون لاگو ہونے کے باوجود اس سے کم تنخواہ طے کرنے کے معاملے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ بھلے باہمی رضامندی سے ہی ہو، ایسا عقد شرعی لحاظ سے کیا درجہ رکھتا ہے؟ 4۔اسی طرح اگر کمپنی نے حکومتی چھٹیوں کے دن ملازمین سے کام کروایا ہو، حالانکہ حکومتی قانون کے مطابق اس دن چھٹی تھی، تو ان چھٹیوں کا کیا حکم ہوگا؟ 5۔کیا کمپنی پر ان چھٹیوں کو بعد میں دینا لازم ہوگا یا ان سرکاری تعطیلات پر کام کروانے کی صورت میں حکومتی قانون کے مطابق دوگنا یا تین گنا معاوضہ (جو ملازم کا قانوناً حق بنتا ہو) دینا پڑے گا؟ 6۔ اگر کمپنی معاوضہ کے بجائے کسی عام دن ملازمین کے لیے چھٹی لگا دے تو کیا اس سے ذمہ فارغ ہو جائے گا؟ 7۔یا ان تمام صورتوں میں  صرف حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے جو گناہ ہوا ہے اس پر توبہ و استغفار کرنا کافی ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ حکومت نے ملازم کو کم از کم تنخواہ کا جو حق دیا ہے یہ اس کا شخصی قانونی حق ہے جس میں ملازم کو اپنی طرف سےتخفیف، یا اسقاط کا بھی اختیار حاصل ہے کیونکہ وہ اپنے ذاتی حقوق کے بارے  میں خود مختار ہے، نیز  شرعی اعتبار سے عقدِ اجارہ میں اصل اعتبار فریقین کی باہمی رضامندی کا ہے، لہٰذا ملازم اور مالک جس اجرت پر باہمی رضامندی سے متفق ہو جائیں، اسی پر اجارہ منعقد ہو جاتا ہے۔

2،1: صورت مسئولہ میں کمپنی  پر یہ لازم نہیں کہ ماضی کے تمام مہینوں میں قانونی کم از کم اجرت اور ادا شدہ تنخواہ کے درمیان فرق کا حساب لگا کر ملازم کو ادا کرے کیونکہ فریقین باہمی رضامندی سے جس اجرت پر معاملہ کر چکے تھے کمپنی پر وہی ادا کرنا لازم تھا، اس لیے گزرے ہوئے عرصے کے حوالے سے کمپنی پر اس فرق کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔ 3:اسی طرح کم از کم اجرت کے حکومتی قانون کے باوجود اس سے کم تنخواہ پر عقد اجارہ کرنا، اگر دونوں کی باہمی رضامندی سے ہو اور اس میں کسی شرعی ممانعت کا ارتکاب نہ ہو، تویہ عقد اجارہ شرعاً درست ہوگا۔ 4:اگرکمپنی نے حکومتی چھٹیوں کے دن ملازمین سے کام کروایا ہو اور عقد کرتے وقت یہ طے ہوا ہو کہ چھٹی کے دن کام کرنے پر اضافی اجرت دی جائے گی، يا  عرف یہی ہو کہ ایسے دن کام کرنے والوں کو اضافی اجرت دی جاتی ہے، توپھر ملازمین اس اضافی اجرت کے مستحق ہوں گے۔

5:اگر ملازم متبادل چھٹی لینے پر راضی نہ ہو، تو فریقین کے درمیان جس اجرت پر اتفاق ہوا تھا یا جو وہاں کا عرف ہو، اتنی ہی اجرت لازم ہوگی۔ محض حکومتی قانون کی بنا پر دوگنی یا تین گنا اجرت شرعاً لازم نہیں ہوگی۔ 6:اگر ملازم اس بات پر راضی ہو کہ ان دنوں کی اضافی اجرت کے بجائے اسے بعد میں متبادل چھٹی دے دی جائے، تو ایسا کرنا بھی درست ہے۔ اوراس سے ذمہ فارغ ہوجائے گا۔ 7:جن صورتوں میں معاملہ دونوں کی رضا مندی سے ہوا ہو اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو وہاں ماضی کے معاملے پر کوئی توبہ لازم نہیں۔

 

قال الله تعالى:﴿فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا﴾ [النساء: 4]

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الصلح جائز بين المسلمين زاد أحمد، إلا صلحا أحل حراما، أو حرم حلالا وزاد سليمان بن داود، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المسلمون على شروطهم.(سنن أبي داود، باب في الصلح،رقم الحديث، 3594، ج:3، ص:304)

وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، ج:4، ص:411)

(قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر، عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب القضاء، ج:5، ص:422)

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم.((رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:6، ص:69)

(و) اعلم أن (الأجر لا يلزم بالعقد فلا يجب تسليمه) به (بل بتعجيله أو شرطه في الإجارة) المنجزة، أما المضافة فلا تملك فيها الأجرة بشرط التعجيل إجماعا.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الإجارة، ج:6، ص:10)

(فله أن يبطله) أي فللموكل الذي هو صاحب الحق أن يبطل حقه.(فتح القدير، كتاب الوكالة، ج:8، ص:137)

لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة:97، ج:1، ص:98)

المعروف عرفا كالمشروط شرطا.(مجلة الأحكام العدلية، المادة:43، ص:21)


فتویٰ نمبر : 4092/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں