بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنی بیوی کو فون پر دو طلاق رجعی دینا


سوال

ایک شخص کا اپنی  بیوی سے موبائل پر باتوں کے دوران  جھگڑا  ہوگیا، اس دوران  شوہر نےاپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، جب تیسری طلاق بول رہاتھا تو بیوی نے موبائل بند کیا، شوہر کے بیان کے مطابق فون بند ہونے کے بعد پھراس نے تیسری طلاق نہیں بولی اور میاں بیوی دونوں اس بات پر متفق ہیں، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے، کیا دو ہی طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا تیسری طلاق بھی شمار ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے صریح الفاظ استعمال کرے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ وہ خوشی اور رضامندی کی حالت میں طلاق دے یا غصے کی حالت میں بہر صورت  طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس شخص کا اپنی بیوی سے موبائل فون پر گفتگو کے دوران جھگڑا ہو گیا اور اس نے اس دوران اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں  تو اس سے دو طلاق رجعی واقع ہو گئی ہیں، البتہ شوہر کے بیان کے مطابق اگر واقعتاً اس نے تیسری طلاق نہیں دی اور بیوی بھی اس پر مطمئن ہے تو تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی، اب اگر شوہر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کر سکتا ہے، رجوع کرنے کی صورت میں نکاح برقرار رہے گا اور بیوی اس سے جدا نہیں ہوگی، البتہ آئندہ اس کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا اور اگر عدت گزر جائے اور اس دوران رجوع نہ کرے تو نکاح  ختم ہو جائے گا، جس کے بعد دونوں اگردوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے  تجدید نکاح کرنا ضروری ہوگا تجدیدِ نکاح کے بغیر ازدواجی رشتہ  دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا۔

 

الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي  لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص  ولا يفتقر إلى النية  لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال " وكذا إذا نوى الإبانة  لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه. (الهداية ، كتاب الطلاق، ج:1، ص:225)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.الفتاوى الهندية، (كتاب الطلاق، ج:1، ص:470)


فتویٰ نمبر : 7438/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں