بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

شرکتِ فاسدہ کی ایک صورت


سوال

ایک شخص کے ڈمپر(ٹرک) ہیں، اس نے یہ معاملہ کیا ہے کہ دس ، بارہ لوگوں سے اس طور پر رقم  لی ہے کہ اس ڈمپر سے  جو ماہانہ منافع حاصل  ہوگا، اس میں سے ان کو حصہ دیا جائےگا، اور ڈمپر کااگر نقصان ہو جائے مثلا اس کا ٹائر پھٹ جائے وغیرہ تو اس کا بوجھ مالک ہی برداشت کرےگا، پیسے دینے والوں پر نہیں ہوگا، اور پیسے دینے والے جب چاہے اپنے پیسے واپس لے  سکتے ہیں، اب شرعا یہ معاملہ جائزہے یا نہیں؟  اور اگر جائز نہیں تو جواز کی صورت کیا ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ سوال میں  مذکورہ معاملہ نہ شرکت کے کسی جائز قسم میں داخل ہے اور نہ مضاربت و اجارہ کی  کسی قسم میں، اس لیے یہ معاملہ جائز نہیں۔

اس کی جائز صورت یہ  ہو سکتی ہےکہ  پیسے دینے والے  لوگ اس ڈمپر والے کو رقم دے کر اپنے سرمایہ کے بقدر  اس سے ڈمپر کا کچھ حصہ خریدیں تاکہ  اس میں شریک ہو جائیں، تو پھر جو نفع حاصل ہو گا  ، اس کو  بقدرِحصص تقسیم کریں۔ اسی طرح  اپنے حصہ کے بقدر نقصان بھی  ہر ایک  برداشت کرےگا۔

 

كتاب الشركة (هي عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) ...وشرط جوازها كون الواحد قابلا للشركة (وهي ضربان: شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني. (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب الشركة، ج:6، ص:466)

وأماشركة العقود فالكلام فيها يقع في مواضع: في بيان أنواعها وكيفية كل نوع منها... أما الأول: فشركة العقود أنواع ثلاثة: شركة بالأموال، وشركة بالأعمال، وتسمى شركة الأبدان وشركة الصانع، وشركة بالتقبل، وشركة بالوجوه. أما الأول: وهو الشركة بالأموال: فهو أن يشترك اثنان في رأس مال، فيقولان اشتركنا فيه، على أن نشتري ونبيع معا، أو شتى، أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح، فهو بيننا على شرط كذا، أو يقول أحدهما: ذلك، ويقول الآخر: نعم. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، ج:7، ص:501)


فتویٰ نمبر : 4088/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں