بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مضارب ثانی کا بے جا تصرف کرنا


سوال

عبداللہ نے عمران کو مضاربت کے لیے 4 لاکھ روپے دئے پھر عمران نے کہا کہ میں رقم کسی اور کو دیتا ہوں میں خود کام نہیں کر سکتا ، عبداللہ نے اس کو اجازت دی، لیکن عمران نے جس کو رقم دی اس نے خود کاروبار نہیں کیا بلکہ کسی اور کو رقم حوالہ کی جس کا عبداللہ کو علم نہیں تھا اس تیسرے شخص نے نفع کمایا مگرنفع حوالہ کرنے سے پہلے وہ شخص قتل ہو گیا اب عبداللہ عمران سے اصل سرمایہ اور منافع مانگ رہا ہے جب کہ عمران کا کہنا ہے کہ وہ اس کا ذمہ دارنہیں،اب کیا عمران شرعاً ذمہ دار ہے یا نہیں ہے؟

جواب

عقدِ مضاربت میں رب المال کی جانب سے جو  شرائط  مقرر  ہوں ان کا لحاظ رکھنا ضروری  ہوتاہے۔ چنانچہ اگر رب المال کی جانب سے لگائی گئی شرائط کا لحاظ نہ رکھا جائے تومضاربت ختم ہوجاتی ہے اور مضارب غاصب سمجھا جاتاہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی عبد اللہ (رب الما ل) نے عمران (مضارب ) کو یہ اجازت دی ہو کہ وہ  کسی دوسرے بندے کو مضارب بنائے اور اس نے خوب  تحقیق کے بعد  قابل اعتماد شخص کو مضارب بنایا ہو تو اس صورت میں عمران نے رب المال کی اجازت کے مطابق عمل کیا ہے۔

البتہ اگر مضارب ثانی نے بلا اجازت کسی تیسرے شخص کو اپنی طرف سے مضارب بنایا ہو  تواس کا یہ تصرف ناجائز ہوگا اور اس کی ذمہ داری اس مضارب ثانی پر عائد ہوگی ۔ایسی  صورت میں مضارب اول یعنی عمران اس تعدی اور خلاف اجازت تصرف کا ذمہ دار نہ ہوگا ۔کیونکہ اس نے رب المال کی اجازت کے مطابق دوسرا مضارب بنایا ہے ، تاہم مضارب ثانی سے مطالبہ کی ذمہ داری مضارب اول یعنی عمران کی ہوگی۔

 

ولو استهلك المضارب الآخر المال أو وهبه كان الضمان على الآخر خاصة دون الأول لأنه في مباشرة هذا الفعل مخالف لما أمره الأول فيقتصر حكمه عليه بخلاف ما إذا عمل بالمال.( الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، ج:4، ص:299)

(وأما)القسم الذي للمضارب أن يعمله إذاقيل له:اعمل برأيك،وإن لم ينص عليه،فالمضاربة، والشركة، والخلط، فله أن يدفع مال المضاربة مضاربة إلى غيره"۔(بدائع الصنائع،كتاب المضاربة،فصل في بيان الحكم المضاربة ،ج:6،ص:188)


فتویٰ نمبر : 4089/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں