بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پينٹ شده ديوار پر تیمم کرنا


سوال

میرے دادا جان چند ماہ پہلے آر ایم آئی ہسپتال میں زیر علاج تھے، چونکہ وضو پروہ  قادر نہیں تھے، اس لیے وہ تیمم کرکے نماز ادا کرتے تھے، تاہم اس کے تیمم کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہسپتال میں مٹی نہ ہونے کی وجہ سے دیوار پر ہاتھ پھیر کر تیمم کر لیتے تھے۔ نیز ہسپتال کی دیوار پینٹ شدہ تھی۔ کیا اس صورت حال میں ان کا تیمم  کرکے نمازیں ادا کرنا درست تھا یا نہیں ؟وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ جو چیز زمین کی جنس سے ہو، جس کی علامت یہ ہے کہ آگ میں جلانے سے نرم نہ ہو اور جل کر راکھ نہ ہو اس سے تیمم کرنا جائز  ہے۔ جیسے: ریت اور مختلف اقسام کے پتھر وغیرہ۔ اور جو چیز زمین کی جنس سے نہ ہو، جیسے کپڑا، لکڑی، سونا،چاندی وغیرہ، ان پر تیمم کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر ان چیزوں پر گرد وغبار ہو تو ایسی صورت میں اس پر تیمم جائز ہوگا ۔

صورت مسئولہ میں اگر  ہسپتال کی دیوار واقعی پینٹ شدہ تھی تو پینٹ چونکہ زمین کی جنس سے نہیں اس وجہ سے ایسے دیوار پر تیمم کرنا جائز نہیں ہوگا۔ تاہم اگراس پینٹ شدہ دیوار پر گرد وغبار موجود تھا تو ایسی صورت میں تیمم کرنا ٹھیک ہوگا۔

 

(ومنها الصعيد الطيب) يتيمم بطاهر من جنس الأرض، كذا في التبيين. كل ما يحترق فيصير رمادًا كالحطب والحشيش ونحوهما أو ما ينطبع ويلين كالحديد والصفر والنحاس والزجاج وعين الذهب والفضة ونحوها فليس من جنس الأرض وما كان بخلاف ذلك فهو من جنسها، كذا في البدائع.( الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، ج:1، ص:26)

(أو نفساءبمطهر من جنس الأرض وإن لم يكن عليه نقع) أي غبار.(قوله: من جنس الأرض) الفارق بين جنس الأرض وغيره أن كل ما يحترق بالنار فيصير رمادا كالشجر والحشيش أو ينطبع ويلين كالحديد والصفر والذهب والزجاج ونحوها فليس من جنس الأرض ابن كمال عن التحفة.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، ج:1، ص:238)


فتویٰ نمبر : 10987/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں