بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بالوں اورناخنوں کی حفاظت کاطریقہ


سوال

جوبال بدن سےعلیحدہ کئےجاتےہیں اوراسی طرح جوناخن کاٹےجاتےہیں، توان بالوں اورناخنوں کی حفاظت کی کونسی صورت شرعاًجائزہوگی؟

جواب

واضح رہےکہ انسان کےناخن اوربال انسان کےجسم کےاجزاہیں اورانسان کےسارےاعضا اوراجزاقابلِ احترام ہیں، اس لیےکاٹےگئےناخنوں اوربالوں کودفن کرنا زیادہ مناسب ہےکیونکہ انسان بھی جب مرتا ہےتواس کودفنایاجاتاہے۔

دفنانےکےعلاوہ کسی پاک صاف جگہ میں پھینکنابھی شرعاًجائزہے۔ البتہ گندگی کی جگہ میں پھینکناانسانی شرافت کےساتھ منافی ہونےکی وجہ سےمکروہ ہے۔

 

فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز، فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر فی الختان، ج: 5، ص: 358)


فتویٰ نمبر : 6687/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں