بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

عقد شركت میں ایک شریک کے لیے عمل کرنے پر اجرت مقرر کرنا


سوال

دوآدمیوں نے شراکت پر گاڑی خرید لی ، اور ان میں سے ایک گاڑی چلانے کی ذمہ داری سنبھالتا ہے،تو کیا اس کوگاڑی چلا نے کی اجرت ملے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ دو یا دو سے زیادہ افراد کا باہم سرمایہ ملا کر کوئی معاملہ یا کاروبار  شروع کر نے کا نام شرکت ہے،اس میں نفع کا تعین حصص اور عمل کے اعتبار سے ضروری ہے،مثلانفع دونوں کےدرمیان آدھا آدھا ہوگا، یا  مثلا کسی ایک فریق کے لیے ساٹھ فیصداور دوسرے کے لیے چالیس فیصد، یا دونوں کے سرمایہ کے تناسب سےتقسیم ہوگا،یا ایک فریق زیادہ محنت کرتا ہو،یاکاروبار کو وقت زیادہ دیتا ہو تو اس کے لیے نفع کی شرح باہمی رضامندی سے بڑھانا درست ہے۔ نیزشرکت سے ہٹ کر کسی شریک کے لیےاضافی خدمات سرانجام دینے پراجرت مقررکرنا تعامل بن چکا ہے لہذا اس تعامل کی وجہ سے شرعا ََاس کی گنجائش ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگرشریک عقد شرکت سے ہٹ کر اضافی خدمت(گاڑی چلانا) سرانجام دے رہا ہو ،تو اس کے لیےاس پراجرت مقررکرنے کی گنجائش ہے۔

 

دفع غزلا إلى حائك لينسجه بالنصف فالثوب لصاحب الغزل ومشايخ بلخ جوزوا هذه الإجارة لمكان الضرورة والتعامل۔(الفتاوی الھندية،کتاب الاجارۃ،الباب الخامس عشر،ج:4ِ،ص:481)

 لو دفع إلى حائك غزلا على أن ينسجه بالثلث ومشايخ بلخ وخوارزم أفتوا بجواز إجارة الحائك للعرف۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب البيوع،ج:4،ص:519)


فتویٰ نمبر : 4086/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں