بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فلاحی کاموں کے لیے كميٹی قائم کرنا


سوال

ہمارے گاؤں میں اتفاق گروپ کے نام سے بیرونِ ملک، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مقیم افراد کی ایک کمیٹی قائم ہے، جو وقف کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے انتظام کے لیے تقریباً آٹھ افراد مقرر ہیں۔ اس کمیٹی کے لیے بیرونِ ملک مقیم گاؤں کے افراد پر ایک محدود رقم مقرر کی گئی ہے، مثلاً ہر فرد سے ماہانہ بیس درہم وصول کیے جاتے ہیں۔ ابتدا میں چند افراد نے اپنی طرف سے کچھ رقم وقف کی تھی، جس سے وقف فنڈ قائم ہوا۔ بعد ازاں رفتہ رفتہ دیگر افراد بھی اس میں شامل ہوتے گئے اور انہوں نے بھی اپنی رقوم وقف کے طور پر جمع کروائیں، جس کے نتیجے میں وہ تمام رقوم وقف کی ملکیت بن گئیں۔ اس کمیٹی کے لیے ایک انتظامیہ مقرر ہے جو بحیثیت متولیان اس وقف کو چلا رہی ہے۔ انتظامیہ وقف کی رقوم وصول کرکے ان کی حفاظت اور نگرانی کرتی ہے، اور اگر ان رقوم کے ضائع ہونے میں کوتاہی پائی جائے یا ہلاک ہو جائے تو متولیان ذمہ دار ہوں گے۔ یہ وقف فنڈ درج ذیل امور میں خرچ کیا جاتا ہے:مساجد کی تعمیر، مرمت اور دیگر ضروریات، قبرستان اور جنازہ گاہ کے اخراجات، غریب اور ضرورت مند افراد کی مالی معاونت، راستوں اور دیگر رفاہِ عامہ کے کاموں کی تعمیر و اصلاح میں، میت کی تجہیز، تدفین اور تعزیت کے موقع پر تین دن تک کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات۔ مذکورہ صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس طرح وقف فنڈ قائم کرکے مذکورہ مصارف میں اس کی آمدنی یا اصل رقم خرچ کرنا شرعاً جائز ہے يا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام باہم مل جل کر رہنے، ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے اور باہم تعاون کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے لوگوں کی آسانی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کمیٹی یا فنڈ قائم کرنا فی نفسہ ایک اچھا اور قابلِ تحسین عمل ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی خرابی نہ پائی جائے، مثلاً رقم جمع کرنے میں کسی شخص پر جبر نہ ہو، جمع شدہ رقم قرض یا ہبہ بشرط العوض کی صورت میں نہ ہو تاکہ سود یا کسی اور ناجائز معاملے کا اندیشہ پیدا نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں اگر کمیٹی کی مقررہ رقم ہر شخص اپنی رضا و رغبت سے، بغیر کسی جبر و اکراہ کے ادا کرتا ہو، تو یہ درست ہے۔ مزید یہ کہ اگر اس کمیٹی کا قیام وقف کی بنیاد پر کیا گیا ہو، اور ابتداءً بعض مخیر حضرات نے اپنی طرف سے کچھ رقم وقف کر دی ہو جس سے بنیادی فنڈ قائم ہو گیا ہو، نیز اس کمیٹی کے انتظام کے لیے ایک انتظامیہ بھی مقرر ہو جو متولیانِ وقف کی حیثیت سے اس فنڈ کو چلا رہا ہو، تو ایسی صورت میں انتظامیہ وقف کی رقوم وصول کرنے، ان کی حفاظت و نگرانی کرنے اور متعلقہ مصارف میں خرچ کرنے کی مجاز ہوگی۔ اسی طرح وقف کے اصول و ضوابط میں یہ بات واضح طور پر درج ہو: کہ ہر رکن کو شمولیت کے وقت اس امر سے آگاہ کر دیا جائے کہ اس کا دیا ہوا چندہ وقف کی ملکیت بن جائے گا، بعد میں کسی رکن کو اپنی دی ہوئی رقم واپس لینے یا اس کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔نیز وقف سے کن افراد کے ساتھ، کن حدود اور کن شرائط کے تحت تعاون کیا جائے گا، یہ پہلے سے متعین ہو۔اور انتظامی کمیٹی کے افراد کی حیثیت محض متولی کی ہوگی، اس لیے وہ صرف وقف کے طے شدہ مصارف میں ہی فنڈ خرچ کرنے کے مجاز ہوں گے کسی دوسرے مصرف یا ذاتی مفادات کے لیے فنڈ خرچ کرنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ ایسا کرنا خیانت شمار ہوگا۔ نیز اگر وقف کی رقم متولیان کی تعدی، کوتاہی یا خیانت کے بغیر ضائع یا ہلاک ہو جائے تو وہ اس کے ضامن نہیں ہوں گے، البتہ اگر جان بوجھ کر یا اپنی غفلت اور لاپرواہی سے اس کا نقصان کریں تو اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

لہٰذا مذکورہ بالا اصول و ضوابط کے مطابق اس کمیٹی کو چلانا، اس کا رکن بننا، اس وقف فنڈ کی آمدنی یا ضرورت کے وقت اصل فنڈ کو درج ذیل مصارف  مساجد کی تعمیر، مرمت اور دیگر ضروریات، قبرستان اور جنازہ گاہ کے اخراجات، غریب اور ضرورت مند افراد کی مالی معاونت، راستوں اور دیگر رفاہِ عامہ کے کاموں کی تعمیر واصلاح میں، میت کی تجہیز، تدفین کے اخراجات میں صرف کرنا جائز ہوگا اور تعزیت کے موقع پر تین دن تک کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات میں خرچ کرنا جائز ہوگا۔ اسی طرح تعزیت کے موقع پردورسے آنے والے مہمانوں کی ضرورت کے مطابق ان کے کھانے پینے کے انتظامات پر بھی یہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے، لیکن غمی کے موقع پر لوگوں کے لیے باقاعدہ دعوت اور اجتماعی کھانے کا بندوبست کرنا درست نہیں، تاکہ رسم یا بدعت نہ بنے۔

 

قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾.(المائدة: 2)

عن أنس بن مالك ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه). سنن الدارقطني كتاب البيوع، ج:3 ص:424)

عن جعفر بن خالد، عن أبيه عن عبد الله بن جعفر، قال: لما جاء نعي جعفر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌اصنعوا ‌لآل ‌جعفر ‌طعاما، فقد أتاهم ما يشغلهم أو أمر يشغلهم.(سنن ابن ماجه،ج: 2،ص: 537)

والحديث أصل في المشاركات عند الحاجة، وصححه الترمذي. والسنة فيه أن يصنع في اليوم الذي مات فيه، لقوله صلى الله عليه وسلم: "فقد جاءهم ما يشغلهم عن حالهم، فحزن موت وليهم اقتضى أن يتكلف لهم عيشهم"، وقد كانت للعرب مشاركات ومواصلات في باب الأطعمة باختلاف أسباب وفي حالات جماعها-انتهى.(مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج:5، ص:480(

شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الوقف، ج:5، ص:266)

لا يخفى عليك أن المفتى به الذي عليه المتون جواز وقف المنقول المتعارف.(رد المحتار على الدر المختار،ج:4، ص:390)

وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا.(رد المحتار على الدر المختار، ج:4، ص: 363)

وإن الدراهم لا تتعين بالتعيين، فهي وإن كانت لا ينتفع بها مع بقاء عينها لكن بدلها قائم مقامها لعدم تعينها، فكأنها باقية ولا شك في كونها من المنقول، فحيث جرى فيها تعامل دخلت فيما أجازه محمد ولهذا لما مثل محمد بأشياء جرى فيها التعامل في زمانه قال في الفتح: إن بعض المشايخ زادوا أشياء من المنقول على ما ذكره محمد لما رأوا جريان التعامل فيها.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:364)


فتویٰ نمبر : 6690/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں