بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کا قرأت میں غلطی کرنا


سوال

اگرکوئی امام جمعہ کی نماز میں "وسیق الذین اتقواربھم الی الجنۃ زمرا" کی جگہ "الی جھنم زمرا" پڑھےاوردرمیان میں وقف نہ کرے، تو کیا اس سے نماز ادا ہوتی ہےیا نہیں؟

جواب

نماز میں قرأت کےدوران ایسی غلطی جو معنی کی تغییرکو مستلزم ہواور غلط پڑھی گئی آیت یا جملے اور صحیح الفاظ کے درمیان وقفِ تام نہ ہو ،تو اس سےنمازفاسد ہوجاتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرامام صاحب نے "الی الجنۃ زمرا " کی جگہ "الی جھنم زمرا" پڑھا ہواور"وسیق الذین اتقواربھم" پرو قف نہ کیا ہو،  تو نمازفاسد ہوگئی ہے لہذااس کا اعادہ ضروری ہوگا۔

 

والقاعدة عند المتقدمين أن ما غير المعنى تغييرا يكون اعتقاده كفرا يفسد في جميع ذلك، سواء كان في القرآن أو لا إلا ما كان من تبديل الجمل مفصولا بوقف تام وإن لم يكن التغيير كذلك، فإن لم يكن مثله في القرآن والمعنى بعيد متغير تغيرا فاحشا يفسد أيضا كهذا الغبار مكان هذا الغراب. ( رد المحتار علی الدرالمختار، باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا، ج:1، ص: 631)

وإن غير المعنى تغييرا فاحشا بأن قرأ( وعصى آدم ربه) بنصب الميم ورفع الرب وما أشبه ذلك مما لو تعمد به يكفر. إذا قرأ خطأ فسدت صلاته۔ ( الفتاوی الھندیۃ، باب صفۃ الصلوۃ، الفصل الخامس فی زلۃ القاری، ج:1، ص: 81)


فتویٰ نمبر : 10991/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں