بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دوسرے شخص کی طرف سے قربانی کرنا


سوال

زید اور اس کی بیوی (دونوں الگ الگ) صاحبِ نصاب ہیں۔ زید کے سسر (یعنی لڑکی کے والد) ہر سال زید اور اپنی بیٹی دونوں کی طرف سے اپنے مال سے قربانی کر دیتے ہیں، اور زید کو اس بات کا بخوبی علم و اطلاع بھی ہے (یعنی اس کی خاموش رضامندی شامل ہے)۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ: ۱۔ کیا سسر کے اپنے مال سے داماد (زید) اور بیٹی کی طرف سے قربانی کرنے سے ان دونوں کی واجب قربانی ادا ہو جائے گی؟ ۲۔ کیا اس طرح قربانی کرنا شرعاً صحیح ہے، یا زید اور اس کی بیوی پر اپنی اپنی قربانی الگ سے کرنا لازم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی ایک مالی عبادت ہے، اور مالی عبادات میں نیابت جائز ہے، اس لیے قربانی میں دوسرے شخص کو اپنا نائب بنا کر جانور ذبح کروایا جا سکتا ہے۔ البتہ کسی شخص کی طرف سے قربانی صحیح ہونے کے لیے اس کی نیت اور اجازت ضروری ہے، اور یہ اجازت صراحتاً بھی ہو سکتی ہے اور دلالتاً بھی۔

 صورتِ مسئولہ میں اگر زید اور اس کی بیوی دونوں الگ الگ صاحبِ نصاب ہیں، اور زید کا سسر ہر سال اپنے مال سے زید اور اپنی بیٹی دونوں کی طرف سے قربانی کرتا ہے، تو زید کو چونکہ اس کا علم ہے اور وہ اس پر راضی بھی ہے، اس لیے اس کی یہ رضامندی دلالۃً اجازت شمار ہوگی، اسی طرح اگر زید کی بیوی کو بھی اس بات کا علم ہو اور وہ بھی اس پر راضی ہو، تو اس کی رضامندی بھی دلالۃً اجازت کے قائم مقام ہوگی، چنانچہ دونوں کی طرف سے قربانی ادا ہو جائے گی اور دونوں پرالگ الگ قربانی کرنا لازم نہیں ہوگا۔

 

ومنها أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه، وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال، فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر؛ ولأن كل أحد لا يقدر على مباشرة الذبح بنفسه خصوصا النساء، فلو لم تجز الاستنابة لأدى إلى الحرج، وسواء كان المأذون مسلما أو كتابيا، حتى لو أمر مسلم كتابيا أن يذبح أضحيته يجزيه؛ لأن الكتابي من أهل الذكاة إلا أنه يكره؛ لأن التضحية قربة والكافر ليس من أهل القربة لنفسه فتكره إنابته في إقامة القربة لغيره، وسواء كان الإذن نصا أو دلالة. (بدائع الصنائع، كتاب التضحية، ج:5، ص:67)

أما الذي يرجع إلى من عليه التضحية فمنها: نية الأضحية لا تجزي الأضحية بدونها، لأن الذبح قد يكون للحم وقد يكون للقربة، والفعل لا يقع قربة بدون النية. قال النبي عليه الصلاة والسلام (لا عمل لمن لا نية له) والمراد منه عمل هو قربة، وللقربة جهات من المتعة، والقران والإحصار وجزاء الصيد وكفارة الحلق وغيره من المحظورات فلا تتعين الأضحية إلا بالنية. وقال النبي عليه الصلاة والسلام (إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى) ويكفيه أن ينوي بقلبه ولا يشترط أن يقول بلسانه ما نوى بقلبه كما في الصلاة؛ لأن النية عمل القلب، والذكر باللسان دليل عليها. (بدائع الصنائع، كتاب التضحية، ج:5، ص:71)

ومنها: إذن صاحب الأضحية بالذبح، إما نصا أو دلالة، إذا كان الذابح غيره، فإن لم يوجد لا يجوز، لأن الأصل فيما يعمله الإنسان أن يقع للعامل، وإنما يقع لغيره بإذنه وأمره فإذا لم يوجد لا يقع له. (بدائع الصنائع، كتاب التضحية، ج:5، ص:73)


فتویٰ نمبر : 10990/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں