بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/07/2026 |
گھر میں شرکتِ متناقصہ
سوال
مفتی صاحب، مجھے Meezan Bank کے ہوم (گھر) فنانسنگ طریقہ کار کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ان کا طریقہ کار عموماً "Musharakah Diminishing" (کم ہوتی شراکت) ہوتا ہے، جس میں بینک اور خریدار مل کر گھر خریدتے ہیں۔ خریدار شروع میں کچھ رقم (مثلاً %20) خود دیتا ہے اور باقی رقم بینک شامل کرتا ہے، اس طرح گھر میں دونوں شریک مالک ہوتے ہیں۔اس کے بعد خریدار ہر ماہ دو ادائیگیاں کرتا ہے:1۔ بینک کے حصے کا کرایہ،2۔ بینک کے حصے کو آہستہ آہستہ خریدنے کی قسط،جیسے جیسے خریدار بینک کا حصہ خریدتا جاتا ہے، بینک کی ملکیت کم ہوتی جاتی ہے اور کرایہ بھی اسی تناسب سے کم ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر میں پورا گھر خریدار کی ملکیت میں آجاتا ہے۔کرایہ مقرر کرنے کے لیے بینک ایک مالی پیمانہ استعمال کرتا ہے جو کراچی انٹر بینک مارکیٹ ریٹ (KIBOR) کے مطابق ہوتا ہے۔ یعنی ملک میں فنانسنگ کی عمومی شرح کے مطابق کرایہ وقتاً فوقتاً کم یا زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم بینک اسے سود نہیں بلکہ اپنے ملکیتی حصے کا کرایہ قرار دیتا ہے۔اگر کوئی شخص وقت پر قسط یا کرایہ ادا نہ کرے تو بینک late payment penalty لگاتا ہے۔ یہ جرمانہ بینک اپنی آمدنی کے طور پر استعمال نہیں کرتا بلکہ عموماً اسے خیرات (charity) میں دینے کی شرط ہوتی ہے۔ جرمانہ تاخیر کے دنوں اور بقایا رقم کے حساب سے بڑھتا جاتا ہے۔مفتی صاحب گزارش یہ ہے کہ مذکورہ طریقہ کار کی شرعی حیثیت بیان فرما دیں۔ کیا اس طریقے سے گھر خریدنا شرعاً جائز ہے؟ اگر اس میں کوئی شرعی قباحت یا ناجائز پہلو موجود ہو تو اس کی بھی وضاحت فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء۔
جواب
واضح رہے کہ ہوم فائنانسنگ کےلئے عموما سودی قرضے کےمتبادل کے طورپر شرکت متناقصہ کاطریقہ کاراپنایا جاتا ہے۔ شرکتِ متناقصہ کی صورت یہ ہے کہ کوئی سرمایہ کار(چاہے شخص ہو یا غیر سودی ادارہ اور بینک) کسی کسٹمر کے ساتھ مل کر دونوں کوئی پلاٹ یا زمین مشترکہ طور پر خرید لیں اوراس کی ملکیت میں شریک ہو جائیں، یا سرمایہ کار کسی کسٹمر کی پہلے سے موجود ملکیت میں کسی حصے مثلاً: نصف، تہائی یا چوتھائی وغیرہ کو خرید کر شریکِ ملک ہو جائے، اس کے بعد ادارہ اپنا حصہ کسٹمر کو متعین ماہانہ یا سالانہ کرایہ کے عوض اجارہ پر دے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار اپنے حصے کی اکائیاں بنا کر کسٹمر پر یہ اکائیاں یکے بعد دیگرے متعین رقم کے عوض وقفے وقفے سے فروخت کرتا رہے اور یوں سرمایہ کار کا حصہ رفتہ رفتہ گھٹتا رہے اور کسٹمر کا حصہ بڑھتا رہے یہاں تک کہ سرمایہ کار کا حصہ مکمل ختم ہو کر وہ سب کسٹمر کی ملکیت میں منتقل ہو جائے۔ یوں شرکتِ متناقصہ میں یکے بعد دیگرے تین عقود ہوتے ہیں:1:ملکیت میں شرکت 2:سرمایہ کار کا اپنا حصہ دوسرے شریک کو اجارے پر دینا 3:کسٹمر کا سرمایہ کار کے حصے کی اکائیاں رفتہ رفتہ خریدنا ،اگر ان میں سے ہر عقد کو دوسرے سے الگ رکھا جائے، کوئی عقد دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہو تو یہ شرعاً جائز ہے اگرچہ پہلے سے اس طرح کے عقود کرنے کی باہمی مفاہمت ہوتی ہو۔درج بالا طریقے کے مطابق شرکتِ متناقصہ اگرچہ فقہی لحاظ سے ایک جائز معاملہ ہے اور مبینہ اسلامی بینکاری میں سرمایہ کاری کا ایک جائز طریقہ ہے، لیکن یہ عقد ان اداروں کے ساتھ کرنا چاہیے جو کہ حقیقت میں شرعی قواعد و ضوابط کے موافق یہ عقد پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہوں اور وہ اپنے تمام عقود بااعتماد و تجربہ کار علماء کرام پر مشتمل شرعی بورڈ اور شریعہ ایڈوائزر کی نگرانی میں طے کرتے ہوں۔ ہمارے ہاں مارکیٹ میں بعض سودی ادارے بھی شرکتِ متناقصہ یا دیگر اسلامی سرمایہ کاری کا نام لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف اسلام کے نام پر راغب کریں، لیکن حقیقت میں ان کے عقود شریعت کے اصول و ضوابط پر پورا نہیں اترتے، بلکہ سود یا قمار پرمبنی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں صرف نام کی وجہ سے ایسے اداروں کے ساتھ معاملات کرنا جائز نہیں ہوگا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی غیر سودی ادارہ یا بینک معتبرو مستند علماء کرام کی نگرانی میں واقعتاً شریعت کے تمام شرائط و ضوابط کی پابندی کے ساتھ اس طرح کا عقد کرتا ہو کہ:
1: بینک اور خریدار مل کر گھر میں شریکِ ملک ہو جائیں اور پھربینک اپنا حصہ اس خریدار کو کرایہ پر دے کر کرایہ وصول کرتا ہواورہرماہ ایک ایک اکائی بھی اس پر فروخت کرتا ہو اوراس سے اس کے بقدر قیمت وصول کرتا رہے یہاں تک کہ سارا پلاٹ یا گھراس کی ملکیت میں منتقل ہو جائے تو ایسا معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔
2: اجارہ کے معاملہ میں طرفین کےلئےایک فکس ماہانہ کرایہ طے کرنا کہ پوری مدت میں اسے تبدیل نہ کیا جائےیا مخصوص مدت کے لئے مقرر کرنا اوربعد میں کسی خاص اشاریہ کے مطابق اس کو تبدیل کرنا دونوں جائز ہیں۔ لہٰذا اگرکوئی غیرسودی ادارہ یابینک کسٹمرکوگھریا پلاٹ میں اپنا حصہ کرایہ پردیتا ہے اور مکمل مدت کے لئےایک ہی کرایہ طے کرتے ہے یا کسی معین مدت تک ایک کرایہ فکس ہواوراس کے بعد باہمی رضامندی سے کرایہ میں کسی خاص اشاریہ کے مطابق تبدیلی کرے تویہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔
3: اگرکسی معاملے میں کسٹمر اپنےاوپر یہ لازم کرے کہ اگرمیں قسطوں کی ادائیگی بروقت نہ کروں تومیں لازما صدقہ کروں گا توشرعا اس کی گنجائش ہےالبتہ یہ ضروری ہے کہ قرض خواہ (فرد ہویا ادارہ) اس زائد رقم کو اپنے منافع میں شامل نہ کرے بلکہ ایسی جگہ صدقہ و خیرات کی مد میں استعمال کرے جہاں اسے کسی بھی طرح کانفع حاصل نہ ہو۔
وتفسد – أي الإجارة – أيضا بالشيوع. . . إلا إذا آجر كل نصيبه أو بعضه من شريكه، فيجوز، وجوازه بكل حال.( الدر المختار، باب الإجارة الفاسدة، ص:579)
ولو باع أحد الشريكين في البناء حصته لأجنبي، لا يجوز، ولشريكه جاز.(ردالمحتار مع الدر المختار، كتاب الشركة، ج:4،ص:300)
أما إذا التزم أنه إن لم يوفه حقه في وقت كذا فعليه كذا وكذا لفلان أو صدقة للمساكين فهذا هو محل الخلاف المعقود له هذا الباب فالمشهور أنه لا يقضى به كما تقدم وقال ابن دينار: يقضى به.(تحرير الكلام في مسائل الإلتزام، الباب الثاني في الالتزام المعلق على فعل الملتزم بكسر الزاي، ص:176)
إذا قلنا أن الالتزام المعلق على فعل الملتزم الذي على وجه اليمين لا يقضى به على المشهور فاعلم أن هذا ما لم يحكم بصحة الالتزام المذكور حاكم، وأما إذا حكم حاكم بصحته أو بلزومه فقد تعين الحكم به لأن الحاكم إذا حكم بقول لزم العمل به وارتفع الخلاف.(تحرير الكلام في مسائل الالتزام، ص:185)
وأما المستند الشرعي لهذا الالتزام، فإن الالتزام بالتبرع جائز، عند جميع الفقهاء، وإن مثل هذا التبرع يلزم في القضاء أيضا عند بعض المالكية. والأصل عند المالكية أن الالتزام إن كان على وجه القربة، فإنه يلزم الملتزم في القضاء باتفاق علمائهم. أما إذا كان الالتزام على وجه اليمين، بمعنى أن يكون معلقا على أمر يريد الملتزم الامتناع عنه، ففي لزومه في القضاء خلاف. فذهب بعضهم إلى أنه لا يقضي به في الحكم، وخالفهم آخرون، فجعلوه لازما في القضاء. (مجلة مجمع الفقه الإسلامي، أحكام البيع بالتقسيط، ج:7، ص:619)
الشركة المتناقصة: والطريق الثاني للتمويل العقاري يبتنى على أساس الشركة المتناقصة. وإن هذا الطريق يتلخص في نقاط تالية: إن الممول والعميل يشتريان البيت على أساس شركة الملك، فيكون البيت مشاعا بينهما بنسبة حصة الثمن التي دفعها كل واحد منهما،.....،فظهر بهذا أن هذه العقود الثلاثة من المشاركة في الملك، والإجارة، والبيع، كل واحد منها صحيح في حد ذاته، فإن وقعت هذه العقود من غير أن يشترط أحدها في الآخر، بل يعقد كل منها مستقلا، فلا غبار على جوازها.....، محظور الصفقة في صفقة – إنما يلزم إذا كان العقد الواحد مشروطا بالعقد الآخر في صلب العقد، أما إذا وقعت هناك مواعدة بين الفريقين، بأنهما يعقدان الإجارة في الوقت الفلاني، والبيع في الوقت الفلاني، وانعقد كل عقد في وقته مطلقا من أي شرط، فالظاهر أنه لا يلزم منه الصفقة في الصفقة وقد صرح به الفقهاء في عدة مسائل. (مجلة مجمع الفقه الإسلامي، الطرق المشروعة للتمويل العقاري، ج:6، ص:72،62،60)