بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مرد اور عورت کے مستوراعضا اور معفو مقدار
سوال
مرد اور عورت کے ستر میں کون کون سے اعضاء شامل ہیں، نام بتا کر واضح کریں؟ کیا یہ مسئلہ درست ہے کہ اگر نماز کے دوران مرد کے ستر کا کوئی عضو کھل جائے اور کھلے ہوئے حصے کی مقدار اس عضو کے چوتھائی (1/4) کے برابر ہو تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، اور اگر چوتھائی سے کم ہو تو نماز باقی رہتی ہے؟ کیا یہی مسئلہ عورت کے ستر کے لیے بھی مکمل طور پر اسی طرح ہے؟ نیز فقہ میں مرد کے ستر میں "گھٹنا" اور "ران (جانگھ)" دو الگ الگ اعضاء مانے جاتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا کپڑا نماز سے پہلے یا نماز کے دوران ان دونوں جگہوں سے تھوڑا تھوڑا پھٹ جائے، تو کیا ان دونوں پھٹے ہوئے حصوں کو آپس میں ملا کر چھوٹے عضو (یعنی گھٹنے) کی چوتھائی سے ناپا جائے گا؟ اگر ملا کر گھٹنے کی چوتھائی کے برابر ہو جائے تو نماز ٹوٹ جائے گی یا دونوں کا حساب الگ الگ کیا جائے گا؟ اس مسئلے کا مکمل خلاصہ اور تفصیل کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مرد کے ستر میں آٹھ(8) اعضاء شامل ہیں : پہلا: عُضوِ تناسل (الذکر) اور اس کے آس پاس کا حصہ۔ دوسرا: دونوں خصیتین اور ان کے آس پاس کا حصہ۔ تیسرا: دُبر (پاخانے کی جگہ) اور اس کے آس پاس کا حصہ۔ چوتھا اور پانچواں: سرین کے دونوں حصے ( چوتڑ)۔ اور چھٹا اور ساتواں: دونوں ران بشمول گھٹنوں کے۔ آٹھواں: ناف سے لے کر زیرِ ناف (پیرو) تک کا حصہ، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے بالکل سامنے اور برابر میں آنے والے دونوں پہلو، پیٹھ اور پیٹ کا حصہ۔
اور عورت کے ستر میں چوبیس (24)اعضا شامل ہيں ان میں سے دونوں ران گھٹنوں سمیت ، سرین کے دونوں حصے ، شرمگاہ (آگے کا حصہ) مع ارد گرد ، پاخانے کی جگہ (پیچھے کا حصہ) مع ارد گرد ، پیٹ اور پیٹھ مع دونوں پہلوؤں کے ، دونوں پنڈلیاں ٹخنوں سمیت، دونوں لٹکے ہوئے پستان/چھاتیاں، دونوں کان، دونوں بازو کہنیوں سمیت، دونوں کلائیاں پہنچوں سمیت، سینہ، سر ، بال،گردن،دونوں ہتھیلیوں کی پشت/اوپری حصہ ہیں ۔ علامہ ابن عابدین شامی نے دونوں کندھوں كو پیٹھ کے ساتھ ملا کر ایک عضو قرار نہيں ديا ہے بلكہ اس کو الگ عضو شمار کیا ہے اور اس طرح دونوں پاؤں کے تلوے یعنی نیچے کی طرف والا حصہ ہےالبتہ خزانۃ المفتین میں یہ ہے کہ قدم نماز سے باہر عورت ہے دوران نماز عورت نہیں ۔ یہ وہ اعضاہیں جنہیں عورتوں کے لیے چھپانا (پردہ کرنا) ضروری ہے۔
نیز یہ بھی واضح رہےکہ نماز کی شرائط میں سے ایک شرط ستر عورت ہے چاہے نماز پڑھنے والا مرد ہو یا عورت لیکن دوران نماز کوئی عضو ( جس کا چھپانا ضروری ہو) کا کچھ حصہ کھل جائے اور کھلے ہوئے حصے کی مقدار اس عضو کے چوتھائی کے برابر ہو اور کم از کم ایک رکن (تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے) کی مقدار کھلا رہے، تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اگر نماز شروع کرنے سے پہلے ہی عورت كا کوئی عضو (چوتھائی یا اس سے زیادہ) کھلا ہوا ہو، تو ایسی حالت میں نماز سرے سے شروع ہی نہیں ہوئی ۔
نیز اگر ایک عضو کا کھلا ہوا حصہ اس کے ربع تک پہنچتا ہو تو نماز ٹوٹ جاتی ہے،اور اگردو اعضا ایسے ہوں کہ ہر ایک کا تھوڑا تھوڑا کھلا ہو لیکن ہرعضو کا کھلا ہوا حصہ اس عضو کے ربع سے کم ہو لیکن ان دونوں کا مجموعہ ایک چھوٹے عضو(جیسے کان ) کے ربع تک پہنچتا ہو تو اس سے بھی نماز ٹوٹ جاتی ہے،اورراجح قول کے مطابق ران اور گھٹنا ایک عضو ہے لہذا اس کا مجموعہ اگر ربع کے بقدر کھلا ہوا ہو تو نماز ٹوٹتی ہے ورنہ نہیں۔
والركبة تعتبر بانفرادها في رواية والأصح أنها تبع للفخذ؛ لأنها ليست بعضو على حدة في الحقيقة وإنما هي ملتقى عظم الفخذ۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، 1/ 96)
وتجمع بالاجزاء لو في عضو واحد، وإلا فبالقدر، فإن بلغ ربع أدناها كأذن منع.) الدر المختار شرح تنوير الأبصار ص58)
(قوله قدر أداء ركن) أي بسنته منية. قال شارحها: وذلك قدر ثلاث تسبيحات اهـ وكأنه قيد بذلك حملا للركن على القصير منه للاحتياط، وإلا فالقعود الأخير والقيام المشتمل على القراءة المسنونة أكثر من ذلك، ثم ما ذكره الشارح قول أبي يوسف. واعتبر محمد أداء الركن حقيقة، والأول المختار للاحتياط كما في شرح المنية، واحترز عما إذا انكشف ربع عضو أقل من قدر أداء ركن فلا يفسد اتفاقا لأن الانكشاف الكثير في الزمان القليل عفو كالانكشاف القليل في الزمن الكثير، وعما إذا أدى مع الانكشاف ركنا فإنها تفسد اتفاقا قال ح: واعلم أن هذا التفصيل في الانكشاف الحادث في أثناء الصلاة، أما المقارن لابتدائها فإنه يمنع انعقادها مطلقا اتفاقا بعد أن يكون المكشوف ربع العضو، وكلام الشارح يوهم أن قوله قدر أداء ركن قيد في منع الانعقاد أيضا. اهـ. (قوله بلا صنعه) فلو به فسدت في الحال عندهم قنية قال ح: أي وإن كان أقل من أداء ركن. ( رد المحتار علی الدر المختار شرح تنوير الأبصار ، ج:2، ص:82)
أعضاء عورة الرجل ثمانية: الأول الذكر وما حوله. الثاني الأنثيان وما حولهما. الثالث الدبر وما حوله. الرابع والخامس الأليتان. السادس والسابع الفخذان مع الركبتين. الثامن ما بين السرة إلى العانة مع ما يحاذي ذلك من الجنبين والظهر والبطن. وفي الأمة ثمانية أيضا: الفخذان مع الركبتين، والأليتان والقبل مع ما حوله، والدبر كذلك، والبطن والظهر مع ما يليهما من الجنبين. وفي الحرة هذه الثمانية، ويزاد فيها ستة عشر: الساقان مع الكعبين، والثديان المنكسران، والأذنان، والعضدان مع المرفقين، والذراعان مع الرسغين والصدر، والرأس، والشعر، والعنق، وظهر الكفين. وينبغي أن يزاد فيها أيضا الكتفان ولا يجعلان مع الظهر عضوا واحدا، بدليل أنهم جعلوا ظهر الأمة عورة دون كتفيها وكذلك بطنا القدمين عورة في رواية أي وهي الأصح كما قدمناه عن إعانة الحقير للمصنف، فتصير ثمانية وعشرين كذا حرره۔ ( رد المحتار علی الدر المختار شرح تنوير الأبصار ، ج:2، ص:82)
وكشف ربع عضو من أعضاء العورة" الغليظة أو الخفيفة من الرجل والمرأة "يمنع صحة الصلاة" مع وجود الساتر لا ما دون ربعه والركبة مع الفخذ عضو واحد في الأصح۔( مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص:91)
والغليظة القبل والدبر وما حولهما والخفيفة ما عدا ذلك من الرجل والمرأة وقد سوى في المختصر بين الغليظة والخفيفة في اعتبار الربع۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق 1/ 96)
وإن انكشفت العورة من مواضع متفرقة تجمع؛ لأن محمدا رحمه الله ذكر في الزيادات امرأة صلت وانكشف شيء من شعرها وشيء من ظهرها وشيء من فرجها وشيء من فخذها ولو جمع بلغ ربع أدنى عضو منها منع جواز الصلاة۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، 1/ 97)
والصحيحُ: أنّ القدمين ليست بعورة في حقّ الصلاة، وعورةٌ خارج الصلا۔ ( خزانة المفتين - قسم العبادات ص392)
(وكشف ربع عضو هو عورة) من الرجل والمرأة غليظة أو خفيفة، والعورة الغليظة قبل ودبر وما حولهما والخفيفة ما عدا ذلك (يمنع) صحة الصلاة عند الطرفين وهو الصحيح۔( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر1/ 81)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں