بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی شخص کا اپنا نکاح خود پڑھانا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیں، عدت گزرنے کے بعد حلالہ کی غرض سے اس عورت کا نکاح ایک شخص سے بایں طور کروایا گیا کہ اس شخص نے اپنا نکاح اس عورت کے سابق شوہر اور ایک دوسرے شخص کو گواہ بنا کر خود باندھا،اور عورت بھی موجود تھی اس نے قبول براہ راست کیا، پھر ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے دی۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس شخص کا اپنا نکاح خود پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کی صحت کے لئے مرد و عورت کا خود یا اپنی طرف سے کسی کو وکیل بنا کر ایجاب و قبول کرنا اور اس عقد کے وقت دو گواہ موجود ہونا ضروری ہے، اگر متعاقدین خود یا ان کے وکیل گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کرلیں تو نکاح درست ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر مرد و عورت کے درمیان ایجاب و قبول سابق شوہر اور ایک دوسرے شخص کی موجودگی میں براہ راست ہوا ہو تو یہ نکاح جائز ہے۔ اور کسی کا اپنا نکاح خود پڑھانے میں کوئی قباحت نہیں۔

 

النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول ... ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين. (الهداية، كتاب النكاح، ج:2، ص 58)


فتویٰ نمبر : 7498/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں