بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بڑے جانور میں عقیقہ کرنا


سوال

 ایک شخص نے عقیقے کے لیے ایک بڑا جانور (جیسے گائے یا بیل) خریدا۔ بعد میں اس جانور میں مزید لوگ شامل ہو گئے، جس کے بعد کل حصہ داروں کی تعداد تين ہو گئی۔ انہوں نے جانور کے حصوں کی تقسیم اس طریقے سے کی کہ پہلے شخص نے دو حصے لیے، دوسرے شخص نے دو حصے لیے، اور تیسرے شخص نے ایک حصہ لیا۔ اس حساب سے جانور کے کل 5 حصے بنتے ہیں اور 2 حصے خالی (بغیر کسی کے نام یا نیت کے) رہ جاتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ عقیقہ کے بڑے جانور میں اس طرح پانچ (5)حصے رکھنا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا باقی ماندہ دو حصوں کو خالی چھوڑنے سے عقیقہ صحیح ہو جائے گا؟

جواب

واضح رہے عقیقہ کرنا ایک مستحب عمل ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں روز لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جاتی ہے ۔اور جس طرح لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کافی ہوتی ہے اسی طرح بڑے جانور میں لڑکے کے لئے دو حصے اور لڑکی کے لئے ایک حصہ لینا بھی کافی ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس طرح قربانی کے جانور میں سات حصے ہو سکتے ہیں تو اسی طرح عقیقہ کے بڑے جانور میں بھی سات حصے یا اس سے کم حصے لینا جائز ہے لہذا بڑے جانور میں لڑکے کے لئے دو حصے اور لڑکی کے لئے ایک حصہ رکھ کر عقیقہ کرنا جائز ہے۔

 

والجمهور على إجزاء الإبل والبقر أيضا وفيه حديث عند الطبراني وأبي الشيخ عن أنس رفعه يعق عنه من الإبل والبقر والغنم ونص أحمد على اشتراط كاملة وذكر الرافعي بحثا أنها تتأدى بالسبع كما في الأضحية۔(فتح الباري،باب إماطةالأذى عن الصبى ،ج:9،ص:593)

يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:336)

والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، والتقدير بالسبع يمنع الزيادة، ولا يمنع النقصان۔(الفتاوى الھندیۃ،كتاب الأضحية،الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة فى الضحايا،ج:5،ص:304)

ولو أرادوا القربة - الأضحية أو غيرها من القرب - أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة عن شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة أو القران وهذا قول أصحابنا الثلاثة رحمهم الله تعالى،وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل۔(الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الأضحية،الباب الثامن پيما يتعلق بالشركة فى الضحايا،ج:5،ص:304)


فتویٰ نمبر : 10989/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں