بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چھوڑدیتے ہیں، کےالفا ظ سےطلاق واقع ہونے کاحکم


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ میاں بیوی کے درمیان آپس میں یہ مکالمہ ہوا،  کیا اس کے نتیجے میں طلاق ہوئی یا نہیں ،مکالمہ یہ ہے: بیوی : ہاں مجھ سے بچہ نہیں ہو رہا، آپ دوسری کر لیں گے ۔ شوہر : دوسری سے کیا گارنٹی ہے کہ بچہ ہو جائیگا۔ بیوی : آپ تیسری کر لیں گے۔ شوہر : تیسری سے کیا گارنٹی ہے۔ بیوی : آپ چوتھی کر لیں گے۔ شوہر : چوتھی سے کیا گارنٹی ہے کہ بچہ ہو جائیگا۔ بیوی: آپ پانچویں کر لیں گے۔ شوہر : پانچویں کے لئے پہلی والی کو چھوڑنا ہو گا۔ بیوی : ہاں چھوڑ دے مجھے ، چھوڑ دے۔ شوہر : چھوڑ دیتے ہیں، چھوڑ دیتے ہیں ، ( تین مرتبہ ) بیوی: یہ کیوں کہہ رہے ہیں، 3 الفاظ بول کر ختم کر دے۔ شوہر : کہاں چھوڑ دوں گلشن چھوڑ دوں۔ سوال 1 : کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے (''چھوڑ دیتے ہیں ''کے وقت شوہر کو تھوڑا شک ہوا ہے کہ یہ الفاظ غلط تو نہیں بول رہا) شوہر کے ذہن میں یہ تھا کہ لفظ طلاق سے ہی طلاق ہوتی ہے ، " لفظ چھوڑ دینے " سے طلاق نہیں ہوتی، یہ شوہر کی سمجھ تھی۔ سؤال 2: ( چھوڑ دیتے ہیں ) اس کی وضاحت فرمادیجئے، عام طور پر یہ لفظ مستقبل کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ : میں طلاق دے دیتا ہوں۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ) میں پانی پی لیتا ہوں ۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ) آؤ چائے پیتے ہیں ۔ (مستقبل کی طرف اشارہ) میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ) میں تمہیں پیسے دے دیتا ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے  کنائی الفاظ سےاس وقت طلاق ہوتی ہے جب شوہر نے طلاق  دینےکی نیت کی ہو یا طلاق کا مذاکرہ شروع ہو یا غصے کی حالت ہو، نیزیہ بھی واضح ہو کہ الفاظ کنائی سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے البتہ اگر کسی لفظ کنائی کا استعمال عرف میں طلاق  میں غالب ہوا ہو تو پھرصریح کے ساتھ ملحق ہوکر اس سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہےنیز''چھوڑ دیتے ہیں '' یااس جیسےدیگر الفاظ جن میں حال اوراستقبال دونوں میں طلاق دینے کااحتمال ہوتواگرشوہر کامطلب ایسے الفاظ سے یہ ہوکہ میں نےحال ہی میں طلاق دےدی توبیوی پر طلاق واقع ہوجائےگی اور اگرشوہر کی مراد یہ ہو کہ مستقبل میں طلاق دوں گاتویہ وعدہ طلاق ہوگالہٰذا اس سے بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب بیوی نے شوہرکےساتھ مکالمے میں طلاق کا مطالبہ کیا اور شوہر نے اس کے جواب میں تین مرتبہ ''چھوڑ دیتے ہیں '' کےالفاظ استعمال کئے تو اگر شوہر کی نیت  آئندہ مستقبل میں چھوڑ نےکی دھمکی دیناتھاتواس سےبیوی پرطلاق واقع نہیں ہوئی ۔

 

صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال.( العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،ج:1، ص:38)

لو قال: أطلقك لم يقع إلا إذا غلب استعماله في الحال وفي (الصيرفية) لو كان جوابًا لسؤالها الطلاق وقع عند مشايخ سمرقند كأنه لأن سؤالها إياه معينة للحال لكن ينبغي أن لا يختلف في عدم الوقوع فيما إذا قرنه بحرف التنفيس إلا إذا نواه فتكون السين لمجرد التأكيد.( النهر الفائق شرح كنز الدقائق، ج:2، ص:322)


فتویٰ نمبر : 7434/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں