بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فتوی کی فیس بطور اجرت مقرر کرنا


سوال

بندہ ایک مدرسہ عربیہ میں مدرس ہونے كے ساتھ دار الافتاء میں بھى خدمات سرانجام دیتا ہے، مشاہرہ كے سلسلہ میں حضرت مدیر صاحب كے سامنے دو صورتیں  پیش كیں: ”اگر بہتر سمجھیں تو یا تو میری باقاعدہ تنخواہ جاری فرمانے کی عنایت فرمائی جائے، یا دارالافتاء میں آنے والے وہ مستفتی جن کا فتویٰ میں حل کرتا ہوں، ان کی طرف سے فتویٰ کی وجہ سے مدرسہ کو دی جانے والی رقوم/فیس میں سے مناسب حصہ (مثلاً: نصف) میرے لیے مقرر فرما دیا جائے، تاکہ میں اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر انجام دے سکوں“۔ بعد ازاں دوسرى صورت(فتویٰ کی وجہ سے مدرسہ کو دی جانے والی رقوم/فیس میں سے مناسب حصہ (مثلاً: نصف) میرے لیے) مقرر كر دىا گیا۔ پوچھنا یہ ہے كہ كیا مذكورہ صورت شرعاً جائز ہے؟

جواب

واضح رہےکہ کسی دینی مسئلے کے جواب کو فتوی کہتے ہیں ۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ   مفتی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ زبان سے جواب دے   ، اس لئے  اگر کوئی تحریری شکل میں فتویٰ چاہے تو اس سے اجرت  لینا جائز ہےالبتہ فقہائے کرام نے اس پر اجرت نہ  لینے کو بہتر اور اولیٰ قرار  دیا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں، اگر کسی مدرسہ کے  مہتمم نے مستفتی سے فیس لینا مقرر کیا ہو تو اس کی گنجائش ہے، اور پھر اگر مدرسے کا مہتمم اس فیس کا آدھا حصہ دار الافتاء کے مفتی صاحب کے لیے مقرر کر لے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ تاہم، تقویٰ اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ خدمت بلا معاوضہ انجام دی جائے اور اجرت نہ لی جائے۔

 

الفتوى  فى اللغة والإصطلاح۔۔۔الجواب عن مسئلة دينية۔(أصول الإفتاء وأدابه، ص:9،8)

 قال ابن منظور: "أفتاه في الأمر أبان له، وأفتى الرجل في المسألة واستفتيته فيها فأفتاني إفتاء۔ (أدب المفتي والمستفتي ص :23  )

ومنها أن تكون الأجرة معلوم ۔( الفتاوى الهندية، ج:4،ص:411)

 (‌يستحق ‌القاضي ‌الأجر ‌على ‌كتب ‌الوثائق) والمحاضر والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى؛ لأن الواجب عليه الجواب باللسان دون الكتابة بالبنان، ومع هذا الكف أولى احترازا عن القيل والقال وصيانة لماء الوجه عن الابتذال بزازية.  (الدرالمختار،  6/ 92)


فتویٰ نمبر : 6705/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں