بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گزشتہ سال سے بچی ہوئی گندم پر دوبارہ عشر


سوال

اگر کسی شخص نے ایک دفعہ گندم سے عشراداکر دیا ہو، پھر سال گزر جائے اور اس کے پاس اس گندم میں سے تین بوریاں باقی ہوں تو کیا ان باقی ماندہ بوریوں سے دوبارہ عشر ادا کرنا  لازم ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عشر کے وجوب کے لیے سبب زمین سے فصل کا نکلنا ہے، نہ کہ سال کا گزرنا، اس لیے ایک پیداوار پر ایک ہی مرتبہ عشر واجب ہوتا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے ایک دفعہ گندم سے عشرادا کیا ہواورپھر سال گزرا ہو اور اس کے پاس اس گندم میں سے تین بوریاں باقی ہوں تو چونکہ یہ نئی پیداوار نہیں ہے بلکہ وہی سابقہ پیداوار ہے جس کا عشر پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے اس وجہ سےان  باقی ماندہ بوریوں سے دوبارہ عشر ادا کرنا لازم نہیں۔

 

قال الله تعالیٰ: ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ [الأنعام: 141]

وأما وقت الوجوب فوقت الوجوب وقت خروج الزرع وظهور الثمر عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف وقت الإدراك، وعند محمد وقت التنقية والجذاذ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ،كتاب الزكاة،فصل:وأما وقت الوجوب، ج:2، ص:63)

حتى لو أخرجت الأرض مرارا وجب في كل مرة لإطلاق النصوص عن قيد الحول ولأن العشر في الخارج حقيقة فيتكرر بتكرره. (رد المحتار علی الدر المختار،باب العشر، ج:2، ص:326)


فتویٰ نمبر : 10977/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں