بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پرانے برتنوں کے عوض نئے برتن خریدنا


سوال

ہم کباڑی سے دو تین  پرانے برتنوں کے عوض لوہے یا پیتل کا ایک نیا برتن خریدتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر پرانے برتنوں کے ساتھ کچھ  رقم بھی ملا دی جائے تو پھر کیا حکم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ جو چیزیں وزن اور کیل کے ساتھ بیچی جاتی ہوں اور ان کا جنس بھی ایک ہو، تو ان کا آپس میں تبادلہ کرتے وقت وزن اور کیل میں برابری ضروری ہوتی ہے، اور ادھار بھی جائز نہیں ہوتا، نیز یہ کہ اشیاء ربویہ میں جید اور ردی کا کوئی فرق نہیں ہوتا۔ تا ہم جو چیزیں عدد کے اعتبار سے فروخت کی جاتی ہوں تو ان میں برابری ضروری نہیں، کمی بیشی کے ساتھ بیچنا بھی جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر دونوں طرف کے برتن الگ الگ جنس کے ہوں، مثلا: پرانے برتن پیتل کے ہوں اور نیا برتن سِلور یا لوہے کا ہو تو خواہ پرانے برتن کے ساتھ رقم ملائی جائے یا نہ ملائی جائے، بہرصورت جائز ہے اور اگر دونوں طرف کے برتن ایک ہی جنس سے ہوں تو پھر دیکھا جائے گا کہ عرف میں اس جنس کے برتن عدد کے اعتبار سے فروخت ہوتے ہیں یا وزن کے اعتبار سے۔ اگر عدد کے اعتبار سے فروخت ہوتے ہوں تو تبادلہ میں کمی بیشی کرنا جائز ہے اور اگر وزن کے اعتبار سے فروخت ہوتے ہوں جیسا کہ آج کل سِلور یا پیتل وغیرہ کے برتن وزنا فروخت ہوتے ہیں تو پھر آپس میں تبادلہ کرتے وقت بدلین (پرانے برتن اور نئے برتن ) کا وزن ایک جتنا ہونا ضروری ہے، اور اگر پرانے برتنوں کے ساتھ کچھ رقم ملادی جائے پھر بھی کمی بیشی جائز نہ ہوگی، کیونکہ عام طور پر پرانے برتن وزن میں نئے برتنوں سے زیادہ ہوتے ہیں تو نقد رقم ملانے سے عدم جواز كے حكم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ البتہ اگر نئے برتن وزن ميں كچھ کم ہوں اور ان کے ساتھ کچھ رقم ملا دی جائے تو پھر یہ معاملہ جائز ہوجائے گا۔

 

وفی التجريد: الأواني المتخذة من الصفر والحديد تصير عادة عددية بالتعامل يجوز بيع بعضها ببعض كيفما كان، كذا فی التتارخانية. لو تعارفوا بيع هذه الأواني بالوزن لا بالعدد لا يجوز بيعها بجنسها إلا متساويا. (الفتاوی الهندية، كتاب الصرف، ج:3، ص:221)


فتویٰ نمبر : 4170/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں