بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چار رکعت والی نماز میں قعدہ اولی کا بھول جانا


سوال

کیا فرماتے ہیں، علماے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے چار رکعت نفل کی نیت باندھ لی۔ دو رکعت ادا کرنے کے بعد سیدھا کھڑا ہوا اور قعدہ اولی ترک کیا۔ اس کے بعد بقیہ دورکعت ادا کر دیں اور بغیر سجدہ سہو نماز ختم کر کے چلا گیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

نفل نماز میں اگر کوئی شخص قعدہ اولی ترک کرے تو اس کے حکم میں فقہائے احناف کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ جب تک اس نے تیسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو، واپس لوٹے گااور بعض فرماتے ہیں کہ واپس نہیں لوٹے گا بلکہ آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز پوری کرے گا۔ بنیادی طور پر یہ اختلاف ایک دوسرے اختلاف پر مبنی ہے۔ جن حضرات کی رائے یہ ہے کہ لوٹے گا تو وہ اس بات کو سامنے رکھتے ہیں کہ نفل نماز کا ہر ہر شفعہ الگ نماز کی حیثیت رکھتا ہے، لہذا ان کے نزدیک پہلا قعدہ فرض ہے تو جب اس کو ترک کر کے تیسری رکعات کے لیے کھڑا ہوا، گو یا فرض کو ترک کیا، لہذا قعدہ کی طرف لوٹے گا۔ اور جو حضرات کہتے ہیں کہ نہیں لوٹے گا، وہ حضرات ان چار رکعات کو ایک نماز شمار کرتے ہیں، لہذا وہ حضرات اس کے وجوب کو مد نظر رکھ کر واپس نہ لوٹنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

علامہ طحطاوی نے اس میں اس طرح تطبیق کی ہے کہ یہ قعدہ فرض تب متصور ہوگا کہ جب نمازی قعدہ کے لیے بیٹھ جائے لیکن اگر نمازی نے اس کو بالکل ترک کر دیا تو پھر اس کو واجب تصور کر کے سجدہ سہو سے اس کی نماز صحیح ہوگی۔ علامہ شامی کی رائے بھی یہی ہے کہ نہیں لوٹے گا اوراس قول کوانہوں نے صحیح قرار دیا ہے، لہذانفل نماز میں قعدہ اولی ترک کرنے پر سجدہ سہو سے نماز صحیح ہوجائےگی۔

صورت مسؤلہ میں چونکہ مذکورہ شخص نے سجدہ سہو بھی چھوڑدیا ہے اس لیے اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے، نیزفرض اور نفل نماز میں سہو کا حکم ایک جیسا ہے۔

 

قال الحصكفي:أما النفل فيعود مالم يقيد بالسجدة.قال الشامي: تحت هذه العبارة قوله: (أما النقل فيعود...) جزم به في المعراج والسراج، وعلله ابن وهبان بأن كل شفع منه صلوة على حدة، ولا سيما على قول محمد بأن القعدة الأولى منه فرض فكانت كالأخيرة، وفيها يقعد وإن قام. وحكى في المحيط فيه خلافًا، وكذا في شرح التمرتاشي قيل: يعود وقيل:لا. وفي الخلاصة: والأربع قبل الظهر كالتطوع، وكذا الوتر عند محمد، وتمامه في النهر لكن في التاتارخانية عن العتابية قيل في التطوع يعود مالم يقيد بالسجدة، والصحيح أنه لا يعود.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلواة، باب سجود السهو، ج:2، ص:548)

والحاصل أن القعود غير الأخير محتمل لكونه فرضا إن فعله وواجبا إن تركه فلكل من القولين وجه فتأمل. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، باب سجود السهو، ص:380)

ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب. (الفتاوى الهندية، باب سجود السهو، ج:1، ص:126)


فتویٰ نمبر : 10971/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں