بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں دوکان کا کرایہ منافع میں سے نکالنا


سوال

ہم دو دوستوں نے آپس میں  یہ طے کیا کہ ایک ساتھی کے پیسے ہوں گے اور دوسرے ساتھی کی محنت ہوگی، اس  سے جو منافع حاصل ہوں گے اس کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ منافع کا  30 فیصد محنت کرنے والے کا ہوگاور 70 فیصد  مال والے کے لیے ہوگا، اس معاہدے کے بعد کاروبار کے لیے ایک دوکان 3 لاکھ روپے ماہانہ  کرایے پر لیا ، 6ماہ کے اندر اس میں سارا سیٹ اپ یعنی فرنیچر، مشینری وغیرہ محنت کرنے والے نے کیا اور مال والے نے یہ تمام اخراجات اٹھائے،  اب مال لگانے والا ساتھی 6ماہ کا کرایہ حاصل شدہ منافع میں سے نکال کر باقی ماندہ کو  معاہدے کے مطابق تقسیم کرنا چاہتا ہے ، جبکہ محنت کرنے والا کرایہ کی رقم مال والے کے ذمہ سمجھتا ہے، شریعت میں کرایہ کی رقم منافع میں سے نکالی  جائے گی یا مال والے کے ذمہ ہوگی؟ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر عقد اس طور پر ہو کہ  ایک شخص کا مال ہو اور دوسرے کی محنت ہو،تو اس کو شرعا مضاربت کہتے ہیں،  مال لگانے والے کو رب المال اور محنت کرنے والے کو مضارِب کہا جاتا ہے،مضاربت میں  کاروبار کے اخراجات حاصل شدہ منافع سے پورے کیے جائیں گے، اخراجات نکالنے کے بعدباقی ماندہ منافع کو طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جائے گااور دوکان کا کرایہ بھی اخراجات کا حصہ ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق حاصل شدہ منافع  سے پہلے دوکان کا کرایہ  نکالا جائے گا، اس کے بعد  بقیہ منافع کو طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔ کرایہ کی رقم صرف  مال والے (رب المال)کے ذمے  نہ ہوگی، تاہم اگر منافع  کرایہ کی رقم ادا کرنے کے لیے کافی نہ ہو تو اس صورت میں کرایہ کی رقم مال لگانے والے (رب المال) کےسرمایہ  سے ادا کی جائے گی۔

 

(ويأخذ المالك قدر ما أنفقه المضارب من رأس المال إن كان ثمة ربح، فإن استوفاه أو فضل شيء) من الربح (اقتسماه) على الشرط؛ لأن ما أنفقه يجعل كالهالك، والهالك يصرف إلى الربح كما مر. (رد المحتار  علی الدرالمختار،  کتاب المضاربة، ج:12، ص:422)

 (ويبيع) المضارب في المضاربة الصحيحة (بالنقد والنسيئة ويشتري ويوكل ويسافر) برا وبحرا... (وله الإبضاع والإيداع) واستئجار العمال للأعمال واستئجار المنازل لحفظ الأموال واستئجار السفن والدواب. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب المضاربة،  ج:7، ص:450)

والأصل أن التصرفات في المضاربة ثلاثة أقسام: قسم: هو من باب المضاربة، وتوابعها فيملكه من غير أن يقول له: اعمل ما بدا لك كالتوكيل بالبيع والشراء والرهن والارتهان والاستئجار والإيداع والإبضاع والمسافرة. (رد المحتار  علی الدرالمختار، کتاب المضاربة، ج:7، ص:386)


فتویٰ نمبر : 4076/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں