بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہر معجل کی وصولی سے پہلے اس میں زکوۃ و قربانی کا حکم


سوال

اگر مہرِ معجل کی رقم ابھی تک زوجہ کو وصول نہ ہوئی ہو، جبکہ شوہر مالدار ہو تو کیا اس مہر کی بنیاد پر زوجہ صاحب نصاب شمار ہوگی؟ اس مہر کے علاوہ اس کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود نہ ہو، تو کیا وہ زکوٰۃ لےسکتی ہے یا نہیں؟ نیز اس پر زکوٰۃ اور قربانی واجب ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو دین کسی مال کے بدلے نہ ہو وہ دین ضعیف کہلاتا ہے۔ جیسے حق مہر، امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک اس میں اس وقت تک زکوۃ واجب نہیں ہوتی جب  تک مکمل نصاب کے بقدر وصولی کے بعد اس پر سال نہ گزرجائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مہر معجل ابھی تک بیوی نے وصول نہ کیا ہو تو چونکہ یہ دین ضعیف کے حکم میں ہے اس وجہ شوہر اگر چہ مالدار ہو تب بھی بیوی اس مہر کی وجہ سے صاحب نصاب شمار نہ ہوگی چنانچہ اگر اس مہر کے علاوہ  اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہ ہو تو اس پر زکوۃ اور قربانی واجب نہ ہوگی، البتہ اگر شوہر صاحب استطاعت ہو اور مطالبہ پر  مہر حوالہ کرتا ہو تو ایسی عورت  کے لیے زکوۃ لینا جائز نہ ہوگا ۔

 

ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج.( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:172)

والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا، وبدار تسكنها مع الزوج إن قدر على الإسكان.(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، ج:6، ص:312)

وفي الفتح: دفع إلى فقيرة لها مهر دين على زوجها يبلغ نصابًا وهو موسر بحيث لو طلبت أعطاها لايجوز وإن كان لايعطي لو طلبت جاز.
قال في البحر: المراد من المهر ما تعورف تعجيله وإلا فهو دين مؤجل لايمنع وهذا مقيد لعموم ما في الخانية و يكون عدم إعطائه بمنزلة إعساره ويفرق بينه وبين سائر الديون بأن رفع الزوج للقاضي مما لاينبغي للمرأة بخلاف غيره، لكن في البزازية: إن موسرًا والمعجل قدر النصاب لايجوز عندهما، وبه يفتى احتياطًا وعند الإمام يجوز مطلقًا. اهـ.
قال في السراج: والخلاف مبني على أن المهر في الذمة ليس بنصاب عنده وعندهما نصاب. اهـ. نهر.
قلت: ولعل وجه الأول كون دين المهر دينًا ضعيفًا؛ لأنه ليس بدل مال ولهذا لاتجب زكاته حتى يقبض ويحول عليه حول جديد فهو قبل القبض لم ينعقد نصابًا في حق الوجوب فكذا في حق جواز الأخذ لكن يلزمه من هذا عدم الفرق بين معجله ومؤجله، فتأمل.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، ج:2، ص:344)


فتویٰ نمبر : 10980/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں