بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہر معجل و موجل کا وجوب زکوۃ و قربانی سے مانع ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مہرِ معجل اور مہرِ مؤجل وجوبِ زکوٰۃ اور وجوبِ قربانی کے لیے مانع شمار ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں کتبِ فقہ میں تین اقوال مذکور ہیں: اول: مہرِ معجل اور مہرِ مؤجل دونوں مانع ہیں۔ وكذا المهر يمنع مؤجلاً كان أو معجلاً لأنه مطالب به، كذا في محيط السرخسي وهو الصحيح على ظاهر المذهب. (الفتاوى الهندية، 1/173، دار الفكر)دوم: صرف مہرِ معجل مانع ہے، مہرِ مؤجل مانع نہیں۔ وقيل: المهر المؤجل لا يمنع... بخلاف المعجل. (البحر الرائق، 2/219، دار الكتاب الإسلامي) سوم: اگر شوہر کا مہر ادا کرنے کا ارادہ ہو تو وہ مانع ہوگا، اور اگر ادائیگی کا ارادہ نہ ہو تو مانع نہیں ہوگا۔ اس بنا پر اگر مہر مؤجل ہو، لیکن شوہر اس کی ادائیگی کا پختہ عزم رکھتا ہو، تو وہ بھی مانع قرار پائے گا۔ اس بارے میں امداد الفتاویٰ اور اس کے حاشیے میں دو مختلف رجحانات مذکور ہیں۔ ملاحظہ ہو : امداد الفتاویٰ (2/9) حضرت تھانویؒ ایک مقام پر فرماتے ہیں:’’مگر میرے نزدیک قولِ ثالث قابل ترجیح ہے۔ واللہ أعلم۔‘‘ نیز ایک دوسرے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ’’اس مسئلے میں عدمِ مانعیتِ مہر لوجوبِ زکوٰۃ کی ایک دوسری روایت بھی منقول ہے۔ لہٰذا دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ اگر شوہر کی نیت ادائے مہر کی ہو تو یہ دین وجوبِ زکوٰۃ کے لیے مانع ہوگا، اور اگر ادائیگی کی نیت نہ ہو تو مانع نہ ہوگا۔‘‘ تاہم حاشیہ میں قولِ اول کو راجح قرار دیا گیا ہے:

في هذا الجواب رجوع عن الجواب السابق كما لا يخفى... فالاظهر عندي القول الأول، ولا عبرة لنقل القهستاني عن الجواهر تصحيح الثاني، فليتأمل. اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ اقوال میں سے راجح اور مفتیٰ بہ قول کون سا ہے؟ نیز اس کی ترجیح کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ مہر معجل کے بارے میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ یہ وجوب زکوۃ  اور وجوب قربانی کے لیے مانع ہے تاہم مہر موجل  میں ادائے زکوۃ  اور وجوب قربانی کے متعلق  فقہ حنفی میں  مختلف اقوال مذکور ہیں  ، بعض فقہاء کرام کے نزدیک مہر مؤجل ادائے  زکوۃ اور وجوب قربانی کے لیے مانع ہے جب کہ بعض کے نزدیک مانع نہیں،  تاہم  حنفیہ کے راجح قول کے مطابق اگر شوہر اس کو ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو ایسا مہر وجوب زکوۃ اور ادائے قربانی  کے لیے مانع ہوگا اور اگر  ادا کرنے کا ارادہ نہ ہو  تو مانع نہ ہوگا۔

 اس ترجیح کی بنیاد ی وجہ یہ ہے کہ مہرِ مؤجل اگرچہ فی الحال قابلِ مطالبہ دین  نہیں ہوتا، لیکن جب شوہر اسے ادا کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہو تو حقیقتاً وہ اس کے ذمہ ایک معتبر اور قابلِ ادا دین ہے، لہٰذا اسے دیگر واجب الاداء دیون کے حکم میں شمار کیا جائے گا۔ اسی وجہ سے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے امداد الفتاویٰ میں قولِ ثالث کو قابلِ ترجیح قرار دیا ہے اور دو مختلف روایات میں تطبیق بھی اسی بنیاد پرکی ہے کہ ادائیگی کی نیت ہونے یا نہ ہونے سے حکم مختلف ہوگا۔

 

وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلاً كان أو مؤجلاً؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لايمنع؛ لأنه غير مطالب به عادةً، فأما المعجل فيطالب به عادةً فيمنع، وقال بعضهم: إن كان الزوج على عزم من قضائه يمنع، وإن لم يكن على عزم القضاء لا يمنع؛ لأنه لايعده دينًا وإنما يؤاخذ المرء بما عنده في الأحكام".(بدائع الصنائع علی ترتیب الشرائع، کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:6)

قال مشايخنا - رحمهم الله تعالى - في رجل عليه مهر مؤجل لامرأته، وهو لا يريد أداءه: لا يجعل مانعا من الزكاة لعدم المطالبة في العادة، وأنه حسن أيضا هكذا في جواهر الفتاوى .( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:173)


فتویٰ نمبر : 10981/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں