بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
شفیع کا صلح کرنے کے بعد دوبارہ شفعہ کرنا
سوال
دعویِ شفعہ دائر ہونے کے بعد خریدار اور شفعہ کا دعویٰ کرنے والے کے درمیان متنازعہ مکان کے بارے میں صلح ہوگئی۔ بعد میں جب شفعہ کے دعویدار کو معلوم ہوا کہ مکان کی قیمت اس کی اصل اور منصفانہ قیمت سے زیادہ بتائی تھی، تو اس نے اس صلح کو مسترد کر دیا۔ کیا شفعہ کا دعویدار اب اپنے حقِ شفعہ کے حصول کے لیے شرعی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ حقِ شفعہ سے دستبراری شرعاً درست ہے، لیکن دستبرداری کے لیے اصول یہ ہے کہ شفیع ایسی رضا مندی کے ساتھ دستبردار ہوا ہو کہ جس میں شفیع دھوکے میں نہ پڑا ہو، اگرشفیع کو دھوکہ دے کردستبردار کرا دیا گیا، تو اس صورت میں دھوکے کاعلم ہو جانے کے بعد شفیع کو حقِ شفعہ حاصل رہتاہے، وہ ختم نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی مشتری نے شفیع کو دھوکہ دے کر اصل قیمت سے زیادہ قیمت بتا کر حق شفعہ سے دستبردار کرایا ہو تو دھوکہ کا علم ہو جانے کے بعد شفیع کو حقِ شفعہ حاصل رہتا ہے، شفیع اگر چاہے توعدالت میں شفعہ کا دعوی دائر کر سکتا ہے۔
فالأصل في جنس هذه المسائل أنه ينظر إن كان لا يختلف غرض الشفيع في التسليم صح التسليم وبطلت شفعته، وإن كان يختلف غرضه لم يصح وهو على شفعته؛ لأن غرضه في التسليم إذا لم يختلف بين ما أخبر به وبين ما بيع به وقع التسليم محصلا لغرضه فصح، وإذا اختلف غرضه في التسليم لم يقع التسليم محصلا لغرضه فلم يصح التسليم. (بدائع الصنائع،كتاب الشفعة،ج:6،ص:137،مکتبۃ:دار الکتب العلمية بيروت)
إذا أخبر بالبيع فسلم ثم علم أن البيع كان بخلافه... ولو أخبر أن الثمن ألف فسلم، فإذا الثمن أقل من ذلك فهو على شفعته. (المحيط البرهاني،كتاب الشفعة،ج:8،ص:449،مکتبۃ:المكتبة الغفارية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں