بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مروجہ کمیٹی (بی سی)کی ایک صورت


سوال

ہم موٹر سائیکل کی ایک کمیٹی کا انعقاد کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں شرکاء ماہانہ 10,000 روپے، ساڑھے 3 سال یعنی42 ماہ تک جمع کریں گے۔ یہ کل 4 لاکھ 20 ہزار بنتے ہیں، کمیٹی کا خاکہ درج ذیل ہے۔ کمیٹی 150 لوگوں پر مشتمل ہو گی۔ جس میں ہر ہر فرد ماہانہ 10,000 روپے 42 ماہ تک جمع کرائے گا ہر شریک قرعہ اندازی کے ذریعے دو موٹر سائیکلیں لے سکے گا۔۔ ایک مہینے میں بذریعہ قرعہ اندازی دو موٹر سائیکلیں دی جائیں گی۔ شرکاء کمیٹی جب چاہیں کمیٹی چھوڑ سکیں گے۔ اس صورت میں ان کی جمع شدہ اقساط پوری کی پوری کسی کمی بیشی کے بغیر انہیں لوٹا دی جائیں گی۔ایک موٹر سائیکل نکلنے کی صورت میں شریک کمیٹی، 21 ماہ تک اور دو موٹر سائیکلیں نکلنے کی صورت میں پورے 42 ماہ تک کمیٹی کی اقساط جمع کرنے کا پابند ہو گا (تاکہ موٹر سائیکل کی قیمت 2 لاکھ 10 ہزار یا دو کی قیمت 4 لاکھ 20 ہزار پورے ہو جائیں) موٹر سائیکل کی قیمت میں رد و بدل نہیں کیا جائے گا (مارکیٹ میں موٹر سائیکل کی قیمت جو بھی ہو چاہے بڑھے یا کم ہو، شرکاء کمیٹی کو موٹر سائیکل 2 لاکھ 10 ہزار کی ہی لگائی جائے گی) کمیٹی کے منتظمین ان جمع شدہ اقساط کو اپنے ذاتی کاروبار میں لگائیں گے۔ یہ شق شرکاء کمیٹی کو ابتداء میں ہی بتا کر انکی رضامندی لی جائے گی۔ (ہاں البتہ کاروبار کے نفع اور نقصان کا شرکاء کمیٹی پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔ نفع منتظمین کمیٹی کا ہو گا اور نقصان بھی وہ خود برداشت کریں گے) شرکاء زیادہ ہیں 150. اور ہر ماہ صرف دو موٹر سائیکلیں دی جائیں گی اور ہر شریک دو موٹر سائیکلیں لے سکے گا تو اس صورت میں اگر مثلا سارے شرکاء موٹر سائیکلیں لینا چاہیں تو 300 موٹر سائیکلیں تقسیم کرنے میں 150 ماہ لگ سکتے ہیں۔ دوسری طرف اقساط 42 ماہ میں ہی پوری ہو جائیں گی۔ تو ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی شریک کا قرعہ اندازی میں نام نہ نکلے تو اقساط پوری ہونے کے باوجود بھی اسے موٹر سائیکل ملنے میں 10 سے 12 سال لگ سکتے ہیں۔۔ (یہ بات کمیٹی کے شرکاء کے علم میں ابتداء میں ہی لائے جائے گی)کمیٹی کے اس طریقہ کار کے حوالے سے شرعی لحاظ سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ مروجہ کمیٹی  (بی سی)قرض کی ایک صورت ہے،اس میں تمام شرکاء ایک خاص رقم جمع کرکے کسی ایک شریک کو بطور قرعہ اندازی ساری رقم دیتے ہیں، کمیٹی کا منتظم بھی اس میں حصہ ڈال سکتا ہے، مروجہ کمیٹی کی یہ صورت فی نفسہ جائز ہے۔ تاہم اگر یہ دوسرے مفاسد پر مشتمل ہو تو جائز نہ ہوگی۔ جیسے کمیٹی ممبر کو مطالبہ پر اپنی رقم واپس نہ کرنا،  مستقبل میں بیع  کرنا یا مبیع کی قیمت مجہول  رکھناوغیرہ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق کمیٹی  کا جو طریقہ کار ہے کہ ہر شریک کو مستقبل میں قرعہ اندازی کے ذریعے موٹر سائیکل ملےگا، اس میں کمیٹی ممبران مستقبل میں بائیک کی خرید و فروخت کا عقد  کرتے ہیں جو شرعاً جائز نہیں۔ نیز نام نہ نکلنے کی صورت میں کچھ ممبران کودس بارہ سال تک انتظار کرنا بھی پڑ سکتا ہے جو بعد میں نزاع کا سبب بن سکتا ہے۔ ا سی طرح کمیٹی منتظم کا کمیٹی ممبران  کو مطالبہ پر اپنی رقم واپس نہ کرنا بلکہ مخصوص مدت گزرنے کے بعد اس کو  رقم حوالہ کرنا  بھی شرعی اصول کے خلاف ہے، البتہ کمیٹی منتظم کا کمیٹی ممبران  کی اجازت سے ان کے رقم کو کاروبار میں لگانا اور اس سے نفع کمانا شرعی لحاظ سے جائز ہے۔

 

(وما تصح إضافته إلى) الزمان (المستقبل... فهي أربعة عشر... (وما لا تصح) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال كما لا تعلق بالشرط لما فيه من القمار.( رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب البیوع، ج:7، ص:517)

 (وشرط لصحته معرفة قدر) مبيع وثمن (ووصف ثمن) قوله: وشرط لصحته معرفة قدر مبيع وثمن ككر حنطة وخمسة دراهم أو أكرار حنطة. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب البیوع، ج:7، ص:48)

وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية. (بدائع الصنائع، كتاب القرض،  ج:10، ص:600)


فتویٰ نمبر : 4098/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں