بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

گھر میں شرکت متناقصہ


سوال

گورنمنٹ نے ہاؤسنگ کے لیے جو وزیراعظم ہاؤسنگ پروگرام شروع کیا ہے، جس میں گھر بنانے یا خریدنے کے لیے قرضہ / فنانسنگ دی جا رہی ہے، اس حوالے سے میرا ایک سوال ہے۔ میں اپنا گھرتعمیر کرنا چاہتا ہوں، تو کیا میں یہ فنانسنگ اسلامک بینکنگ کے ذریعے لے سکتا ہوں؟ اور اگر اسلامی بینک کے ذریعے کنسٹرکشن فنانس لیا جائے تو کیا یہ شرعاً جائز ہوگا؟  

جواب

 واضح رہے کہ ہوم فائنانسنگ کےلئے عموما سودی قرضے کےمتبادل کے طورپر شرکت متناقصہ کاطریقہ کار اپنایاجاتاہے۔شرکتِ متناقصہ کی صورت یہ ہے کہ کوئی سرمایہ کار (چاہے شخص ہو یا غیر سودی ادارہ اور بینک) کسی کسٹمر کے ساتھ مل کر دونوں کوئی پلاٹ یا زمین مشترکہ طور پر خرید لیں اور اس کی ملکیت میں شریک ہو جائیں، یا سرمایہ کار کسی کسٹمر کی پہلے سے موجود ملکیت میں کسی حصے مثلاً: نصف، تہائی یا چوتھائی وغیرہ کو خرید کر شریکِ ملک ہو جائے، اس کے بعد ادارہ اپنا حصہ کسٹمر کو متعین ماہانہ یا سالانہ کرایہ کے عوض اجارہ پر دے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار اپنے حصے کی اکائیاں بنا کر کسٹمر پر یہ اکائیاں یکے بعد دیگرے متعین رقم کے عوض وقفے وقفے سے فروخت کرتا رہے اور یوں سرمایہ کار کا حصہ رفتہ رفتہ گھٹتا رہے اور کسٹمر کا حصہ بڑھتا رہے یہاں تک کہ سرمایہ کار کا حصہ مکمل ختم ہو کر وہ سب کسٹمر کی ملکیت میں منتقل ہو جائے۔ یوں شرکتِ متناقصہ میں یکے بعد دیگرے تین عقود ہوتے ہیں:1:ملکیت میں شرکت 2:سرمایہ کار کا اپنا حصہ دوسرے شریک کو اجارے پر دینا 3:کسٹمر کا سرمایہ کار کے حصے کی اکائیاں رفتہ رفتہ خریدنا  اگر ان میں سے ہر عقد کو دوسرے سے الگ رکھا جائے، کوئی عقد دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہو تو یہ شرعاً جائز ہے اگرچہ پہلے سے اس طرح کے عقود کرنے کی باہمی مفاہمت ہوتی ہو۔

درج بالا طریقے کے مطابق شرکتِ متناقصہ اگرچہ فقہی لحاظ سے ایک جائز معاملہ ہے اور مبینہ اسلامی بینکاری میں سرمایہ کاری کا ایک جائز طریقہ ہے، لیکن یہ عقد ان اداروں کے ساتھ کرنا چاہیے جو کہ حقیقت میں شرعی قواعد و ضوابط کے موافق یہ عقد پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہوں اور وہ اپنے تمام عقود بااعتماد و تجربہ کار علماء کرام پر مشتمل شرعی بورڈ اور شریعہ ایڈوائزر کی نگرانی میں طے کرتے ہوں۔ہمارے ہاں مارکیٹ میں بعض سودی ادارے بھی شرکتِ متناقصہ یا دیگر اسلامی سرمایہ کاری کا نام لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف اسلام کے نام پر راغب کریں، لیکن حقیقت میں ان کے عقود شریعت کے اصول و ضوابط پر پورا نہیں اترتے، بلکہ سود یا قمار پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں صرف نام کی وجہ سے ایسے اداروں کے ساتھ معاملات کرنا جائز نہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی غیر سودی ادارہ یا بینک معتبر و مستند علماء کرام کی نگرانی میں واقعتاً شریعت کے تمام شرائط و ضوابط کی پابندی کے ساتھ اس طرح کا عقد کرتا ہو کہ ایک شخص کے پلاٹ یا زمین کے کسی حصے کو خرید کر شریکِ ملک ہو جاتا ہے اور پھر اپنا حصہ اس کو کرایہ پر دے کر کرایہ وصول کرتا ہو اور ہر ماہ ایک ایک اکائی بھی اس پر فروخت کرتا ہو اور اس سے اس کے بقدر قیمت وصول کرتا رہے یہاں تک کہ سارا پلاٹ اس کی ملکیت میں منتقل ہو جائے تو ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔

 

" وتفسد – أي الإجارة – أيضا بالشيوع. . . إلا إذا آجر كل نصيبه أو بعضه من شريكه، فيجوز، وجوازه بكل حال ".( الدر المختار، باب الإجارة الفاسدة، ص:579)

" ولو باع أحد الشريكين في البناء حصته لأجنبي، لا يجوز، ولشريكه جاز ".(ردالمحتار مع الدر المختار، كتاب الشركة، ج:4،ص:300)

الشركة المتناقصة: والطريق الثاني للتمويل العقاري يبتنى على أساس الشركة المتناقصة. وإن هذا الطريق يتلخص في نقاط تالية: إن الممول والعميل يشتريان البيت على أساس شركة الملك، فيكون البيت مشاعا بينهما بنسبة حصة الثمن التي دفعها كل واحد منهما،.....،فظهر بهذا أن هذه العقود الثلاثة من المشاركة في الملك، والإجارة، والبيع، كل واحد منها صحيح في حد ذاته، فإن وقعت هذه العقود من غير أن يشترط أحدها في الآخر، بل يعقد كل منها مستقلا، فلا غبار على جوازها....، محظور الصفقة في صفقة – إنما يلزم إذا كان العقد الواحد مشروطا بالعقد الآخر في صلب العقد، أما إذا وقعت هناك مواعدة بين الفريقين، بأنهما يعقدان الإجارة في الوقت الفلاني، والبيع في الوقت الفلاني، وانعقد كل عقد في وقته مطلقا من أي شرط، فالظاهر أنه لا يلزم منه الصفقة في الصفقة وقد صرح به الفقهاء في عدة مسائل.(مجلة مجمع الفقه الإسلامي، الطرق المشروعة للتمويل العقاري، ج:6، ص:60،62،72)


فتویٰ نمبر : 4078/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں