بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدالتی تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری ہونےسے طلاق کے وقوع کاحکم


سوال

شمائلہ ارم دختر بشیر احمد ندیم مرحوم کی شادی  2019 میں حاجی فاروق احمدکے بیٹے انعام الحق کے ساتھ ہوئی۔کچھ عرصہ کے بعد  گھریلو تنازعات کی وجہ سے شمائلہ اپنے میکے چلی گئی لیکن گھر والوں اور معززین علاقہ کے کہنے پر شمائلہ ارم واپس سسرال گھر چلی گئی تاہم گھریلو تنازعات دوبارہ شروع ہونے کی وجہ سے شمائلہ ارم دوبارہ میکے چلی گئی اور اختلافات بڑھتے گئے۔اسی دوران شمائلہ ارم کے شوہر انعام الحق نے 2021 میں دوسری شادی کی۔صورت حال کے پیش نظر   شمائلہ ارم نے عدالت میں مورخہ 28/7/22کو تنسیخ نکاح کا دعوی  کر دیا۔عدالت نے متعدد بار انعام الحق کو بذریعہ نوٹس طلب کیا۔انعام الحق کوعدالتی نوٹس ملنے کا ثبوت یہ ہے کہ انعام الحق نے وکلا سے مشورے بھی کئے تاہم کوئی عملی اقدام نہ اٹھایا ۔انعام الحق نہ صرف طلبی نوٹس وصول کرنے سے انکاری ہے بلکہ عدالت میں پیش بھی نہ ہوئے۔عدالت نے انعام الحق کے کے مسلسل حاضر نہ  ہونے پر  یکطرفہ طور پر مورخہ 26/9/22 تنسیخ نکاح کی ڈگری بصورت خلع جاری کردی ۔عدالتی فیصلہ کے بعد انعام الحق نے شمائلہ ارم سے  حق المھر میں دیئے کئے طلائی زیور ودیگر سامان  وصول کر لیا ۔شمائلہ ارم نے یونین کونسل آفس میں عدالتی ڈگری برائے اندراج و اجراء طلاق نامہ مورخہ 17/8/24 کو جمع کر لی۔یونین کونسل آفس کی طرف سے بھی انعام الحق کو کئی بار طلب کیا گیا لیکن حاضر نہ ہو سکا  ۔جس  پر یونین کونسل آفس نے بھی انعام الحق کی غیر حاضری میں طلاق کا سر ٹیفیکیٹ مورخہ 3/6/25 جاری کر دیا ۔اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں عدالتی فیصلہ اور یونین کونسل کے سرٹیفیکیٹ کے اجراسے شمائلہ ارم  کو شرعا طلاق ہوگی یا نہیں؟ اور یہ دوسری جگہ  نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات  قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ وغیرہ کی ادئیگی سے انکار کرے جس سے بیوی کے لیے شوہرکے ساتھ زندگی کزارنا مشکل ہو،تو ایسی صورت میں بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کرے،لیکن اگر  شوہر نان نفقہ اور حقوق زوجیت ادا نہ کررہا ہو اور نہ طلاق و خلع پر راضی ہوتا ہو،تو ایسی صورت  میں شوہر متعنت کہلاتاہےاور اس کی بیوی کو مسلمان حاکم یا عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہےتاکہ شوہرکوبیوی کے حقوق اورنان نفقہ وغیرہ کی ادئیگی پر مجبور کرے ،اگر شوہر انکار کرے تو شوہر کو طلاق یا خلع پرمجبور کرےاگر شوہر اس سے بھی انکار کرے تو ایسی صورت میں مسلمان حاکم یاعدالت تنسیخ نکاح کا حکم جاری کر کے میاں بیوی کے مابین تفریق کر سکتا ہے اور اس سے دونوں کے مابین طلا ق واقع  ہو جائے گی اورعدت گزارنے کے بعد عورت دوسری شادی بهی کر سکتی ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعتاََ ناچاقی اورظلم شوہر کی طرف سے ثابت تھا۔ وہ نہ حقوق زوجیت ادا کرتا تھا اور نہ اپنی بیوی کوخلع یا طلاق دینے پر راضی ہوتا تھا ۔تو ایسی صورت میں بیوی کا عدالت کی رجوع کرنا جائز ہے۔ اگر واقعی عدالت نے اپنی وسعت کے مطابق پوری تحقیق کی ہواور شوہر کو بطور مدعا علیہ عدالت میں حاضر ہونے کا نوٹس بھیجا ہو، لیکن وہ نوٹس ملنے کے باوجود حاضر نہ ہوا، تو ایسی صورت میں عدالت کی جاری کردہ تنسیخ نکاح کی ڈگری  نافذ ہو کر بیوی کوشرعا ََطلاق بائن واقع ہوگی چنانچہ عدت پورے ہونے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

 

وأما المتعنت عن الإنفاق ،ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقة الحال،فلها القيام،فإن لم يثبت عسره انفق أو طلق ،وإلا طلق عليه،قال محشيه:قوله(وإلا طلق عليه)الحاكم من غير تلوم۔(الحیلة الناجزة،ص:133)


فتویٰ نمبر : 7434297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں