بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مسجد و میت کمیٹی کے کارڈ اور فیس کا شرعی حکم
سوال
عرض یہ ہے کہ ہمارے شہر تاشیلیک (میانمار) میں ایک مسجد و میت رفاہی کمیٹی قائم ہے۔ اس کمیٹی کی طرف سے چند شرائط مقرر کر کے کارڈ جاری کیے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: (۱) صرف وہی خاندان میت اور سماجی امور میں تعاون و سہولیات کے مستحق ہوں گے جو اس کمیٹی کے کارڈ ہولڈر ہوں گے۔ (۲) کمیٹی کے اراکین پر ماہانہ فیس مقرر ہے، جس کی پابندی لازم قرار دی گئی ہے، اور اگر کوئی شخص مسلسل تین ماہ تک فیس ادا نہ کرے تو اسے کمیٹی سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر گھرانے سے ماہانہ (۵۰) باٹ وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ ابتدا میں (۱۰۰) باٹ بطور رجسٹریشن لیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ رقم ادا نہ کرے یا کمیٹی میں شامل نہ ہو تو اسے دیگر اراکین کی طرح تعاون اور سہولیات حاصل نہیں ہوتیں۔ ایک شخص نے کارڈ لیتے وقت (۱۰۰) باٹ خوش دلی اور رضامندی کے بغیر گویا پھینک کر ادا کیے۔ نیز شہر کے امام صاحب اور کمیٹی کے بعض ذمہ داران کی جانب سے مسجد میں کارڈ دیتے وقت یہ الفاظ بھی کہے جاتے ہیں: "اگر یہ کارڈ نہیں لیا تو پھر میت کو خود اٹھانا اور خود دفن کرنا پڑے گا۔" اس قسم کی باتیں لوگوں کو کارڈ حاصل کرنے اور کمیٹی میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے کہی جاتی ہیں، تاہم عام لوگوں کے ذہنوں میں اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ کمیٹی میں شامل نہ ہوں یا مقررہ فیس ادا نہ کریں تو میت کے غسل، تدفین اور دیگر ضروری امور میں انہیں اجتماعی تعاون حاصل نہیں ہوگا۔ چنانچہ بہت سے لوگ، خصوصاً غریب اور کمزور طبقے کے افراد، معاشرتی دباؤ، بدنامی کے خوف اور مستقبل میں میت کے معاملات میں تعاون سے محرومی کے اندیشے کی وجہ سے اپنی مکمل دلی رضامندی کے بغیر بھی مقررہ رقم ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ان کی ادائیگی مکمل خوش دلی اور قلبی رضامندی کے ساتھ نہیں ہوتی۔ مندرجہ بالا صورتحال کی روشنی میں درج ذیل امور کے متعلق شرعی رہنمائی اور فتویٰ مطلوب ہے:1۔ کیا اس نوعیت کا کمیٹی سسٹم شریعت کی رو سے جائز ہے یا ناجائز؟2۔ کیا اس نظام میں قمار (جوا) یا کسی فاسد معاملہ سے مشابہت پائی جاتی ہے؟3۔ جو رقم لوگوں سے دلی رضامندی کے بغیر لی جائے، کیا اسے میت کے امور یا سماجی کاموں میں استعمال کرنا شرعاً حلال اور جائز ہے؟4۔ غریب لوگوں پر معاشرتی دباؤ ڈال کر رقم وصول کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟5۔ اگر یہ نظام باہمی تعاون اور تبرع (رضاکارانہ چندہ) کی بنیاد پر قائم کیا جائے تو اس کی جائز اور شرعی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ براہِ کرم اس کی بھی وضاحت فرما دیں۔
جواب
واضح رہے کہ میت کو غسل دینا ،کفنا نا، نماز جنازہ پڑھنا اور دفن کرنافرض کفایہ عمل ہے۔ اگر کچھ لوگ ادا کردیں، تو سب اہل محلہ اور گاؤں والوں کا ذمہ فارغ ہوجائے گا ورنہ سب گناہ گار ہوں گے۔
صورت مسئولہ کے مطابق میت کے کفن دفن وغیرہ کے لئے باہمی رضامندی سےفنڈ کا نظام قائم کرنا فی نفسہ جائز اور مستحسن عمل ہے تاہم ہر فرد پر ماہانہ رقم کولازمی قرار دینا اور قلبی رضامندی کے بغیر ان سے وصول کرکے اسے میت کے امور یا سماجی کاموں میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
اس کے متبادل طریقہ کار یہ ہےکہ شریک ہونے والے افراد اپنی رضامندی سے اس کمیٹی کا حصہ بنیں، کسی پرزبردستی نہ ہو۔ کمیٹی کا قیام وقف کی بنیاد پر ہوجس کا طریقہ یہ ہو کہ ابتدا میں کچھ افراد اپنی خوشی اور رغبت سے کچھ رقم اس کمیٹی کے نام وقف کریں جس سے وقف فنڈ قائم ہو جائے گا، کمیٹی کے ذمہ داران اس کے متولی ہوں گے، اس اصل فنڈ کو مستقل طور پر محفوظ رکھا جائے اور ممبر ان اس فنڈ کو تبر عار قم دیا کریں، وہ چندہ کی رقم اس وقف فنڈ کی ملکیت شمار ہو اور بوقت ضرورت اسی چندہ کی رقم سے خرچ کیا جائے، اصل وقف فنڈ سے نہیں تا کہ وقف قائم رہے۔
جو لوگ اس فنڈ کے لیے رقوم وقف کرتے ہیں وہ اس رقم کےمصرف کے لیے شرائط اور طریقہ کار وضع کر لیں اور بہتر یہ ہے کہ تحریری شکل میں محفوظ کر لیں کہ اس وقف سے کس کے ساتھ، کس حد تک، کن شرائط کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ کمیٹی کا حصہ بننے والے ممبر کے سامنے اس بات کی وضاحت ہو کہ آپ کا چندہ اس مقصد کے لیے وقف کی ملکیت ہو جائے گا چنانچہ بعد میں اس رقم کو واپس لینے اور مطالبہ کا حق حاصل نہ ہو گا۔
ابتداءر قوم وقف کرنے والے اس وقف فنڈ کے متولی اور منتظمین شمار ہوں گے، مالک نہیں ہوں گے، چنانچہ ان کا کام وقف کے لیے چندہ کی رقم پر قبضہ کرنا، اس کی حفاظت کرنا اور وضع کردہ اصولوں کے تحت اس فنڈ کو خرچ کرنا ہو گا۔
انتظامی کمیٹی کے افراد کی حیثیت محض متولی کی ہو گی اس لیے وہ صرف طے شدہ مصارف میں ہی فنڈ کو خرچ کر سکیں گے۔ کسی بھی دوسرے مصرف یا ذاتی مفادات کے لیے خرچ کرنے کے مجاز نہیں۔ ورنہ یہ خیانت متصور ہو گا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ. (سنن ابن ماجه، ج:2، ص:537)
والحديث أصل في المشاركات عند الحاجة، وصححه الترمذي. والسنة فيه أن يصنع في اليوم الذي مات فيه، لقوله صلى الله عليه وسلم: "فقد جاءهم ما يشغلهم عن حالهم، فحزن موت وليهم اقتضى أن يتكلف لهم عيشهم"، وقد كانت للعرب مشاركات ومواصلات في باب الأطعمة باختلاف أسباب وفي حالات جماعها-انتهى.( مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج:5، ص:480)
عن عمرو بن يثربي، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" ألا ولا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه، (مسند الإمام أحمد بن حنبل، حديث عمرو بن يثربي، رقم الحديث:21082)
(والصلاة عليه) صفتها (فرض كفاية) بالإجماع فيكفر منكرها لأنه أنكر الإجماع قنية (كدفنه) وغسله وتجهيزه فإنها فرض كفاية.(ردالمحتار على الدرالمختار، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:207)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں