بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 16/08/2026 |
دارالافتاء
عمرہ کمیٹی
سوال
ایک ادارہ درج ذیل شرائط وضوابط کےتحت"عمرہ کمیٹی" کا سلسلہ چلا رہا ہے؟1۔ ہر ممبر اپنی ماہانہ کمیٹی ہر ماہ کی 5 سے 10 تاریخ کے درمیان جمع کروائے گا اور انتظامیہ سے اپنے کارڈ پرانٹری اور دستخط لازماً کروائے گا۔2۔ ہرماہ کی قرعہ اندازی 12 تاریخ کومنعقد ہوگی۔ اگر کسی مجبوری کی بنا پر تاریخ میں تبدیلی کی جائےتوتمام ممبران کو پیشگی اطلاع دے دی جائےگی۔3۔ جو ممبر 10 تاریخ تک اپنی کمیٹی جمع نہیں کروائے گا،اس کا نام اس ماہ کی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیاجائےگا۔البتہ اگروہ اگلےمہینےسابقہ بقایا کمیٹی کےساتھ اپنی رقم جمع کرادے تواس کا نام دوبارہ قرعہ اندازی میں شامل کرلیاجائےگا۔ کمیٹی دیرسےجمع کرانےپرکسی قسم کا مالی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔4۔ جب کسی ممبر کی بی سی (کمیٹی) نکل آئےتواسےمکمل اختیارحاصل ہوگاکہ وہ اپنی بی سی کی رقم نقد وصول کرلےیا اپنی بی سی کی رقم سےعمرہ پیکج حاصل کرلے۔اگرعمرہ پیکج اوردیگراخراجات بی سی کی رقم سےکم ہوں توباقی ماندہ رقم ممبرکوواپس کردی جائےگی۔اگرعمرہ پیکج کی قیمت بی سی کی رقم سےزیادہ ہوتوادارہ عزمِ خدمت اتحاد تبرعاًاپنی طرف سےرقم شامل کرکےعمرہ پیکج کی آفرپیش کرسکتاہے۔نوٹ:ادارہ عزمِ خدمت اتحاد کی طرف سےدی جانے والی یہ آفرمکمل طورپراختیاری ہوگی۔ممبرچاہےتواس آفرکوقبول کرکےعمرہ پیکج حاصل کرلےاوراگرچاہےتواسےقبول نہ کرے اور اپنی بی سی کی رقم نقد وصول کرلے۔ اس آفرکوقبول کرنا ممبرکےلیےلازم نہیں ہوگا۔عمرہ پیکج 15 دن کاہوگا،جس میں 15دن کاویزا،ان ڈائریکٹ فلائٹ،ٹرانسپورٹ،ہوٹل اورفیلڈ سروس شامل ہوگی۔ نوٹ:کھانےاورشاپنگ کےاخراجات شامل نہیں ہوں گے،نیزربیع الاول، شعبان اوررمضان المبارک کےمہینوں میں یہ پیکج قابلِ اطلاق نہیں ہوگا۔5۔ جس ممبر کی بی سی (کمیٹی) نکل آئےاوروہ اپنی بی سی کی رقم نقدوصول کرلےیاعمرہ پیکج حاصل کرلے،وہ اس کےبعد بھی اپنی تمام بقیہ ماہانہ کمیٹیوں کی بروقت ادائیگی کاپابندہوگا۔اگرکوئی ممبربعد میں کمیٹی کی اقساط ادا نہ کرے،تاخیر کرے،جان بوجھ کرٹال مٹول سےکام لےیابقایارقم کی ادائیگی سےانکارکرےتوانتظامیہ کواس کےخلاف قانونی اورشرعی تقاضوں کےمطابق کارروائی کرنےکاحق حاصل ہوگا۔6۔ جو نیا ممبر کمیٹی کے دوران شامل ہوگا،اگر وہ پہلے ممبر کی جمع شدہ رقم اداکردیتاہےتواسےاسی ترتیب میں شامل کر لیا جائے گا۔7۔ قرعہ اندازی مکمل شفافیت، دیانت داری اورتمام ممبران اورگروپ لیڈرزکی موجودگی میں کی جائے گی۔8۔ ممبران اس بات سے باخبر ہیں کہ ان کی بی سی (کمیٹی) نکلنے سے پہلے تک جمع شدہ رقوم ادارے کے پاس موجود رہیں گی۔ ادارہ ان رقوم کو کسی بھی جائز، شرعی اور قانونی کام میں استعمال کرنے کا مجازہوگا،البتہ ممبران کی رقوم اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی مکمل ذمہ داری ادارے پر برقراررہے گی۔ مذکورہ بالا شرائط و ضوابط کی روشنی میں اس عمرہ کمیٹی کا قائم کرنا اور اس میں شرکت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس طریقۂ کار میں کسی قسم کی شرعی خرابی، سود، قمار، غرر یا دیگر شرعی قباحت پائی جاتی ہو تو اس کی بھی وضاحت فرما دی جائے،اور اگر بعض شرائط میں اصلاح کی ضرورت ہو تو اس کی بھی رہنمائی فرما دی جائے۔
جواب
واضح رہےکہ مروجہ کمیٹی(بی سی)قرض کی ایک صور ت ہے، اس میں تمام شرکاایک خاص رقم جمع کرکےکسی شریک کو بطور قرعہ اندازی ساری رقم دیتےہیں،کمیٹی کا منتظم بھی اس میں حصہ لے سکتا ہےمروجہ کمیٹی کی یہ صورت فی نفسہ جائز ہے،تاہم اگروہ دوسرےمفاسد پرمشتمل ہوتوجائز نہ ہوگی۔یعنی اگر اس میں غلط شرائط لگائی جائیں، مثلاً: کسی کو کم، کسی کو زیادہ دینے کی شرط یا بولی لگاکر فروخت کی جائے یا جس کی کمیٹی نکلتی جائے، وہ بقیہ اقساط سے بری الذمہ قرارپائےتویہ صورتیں جائزنہیں ہیں،بعض صورتیں سود، بعض جوئے کے زمرے میں داخل ہوں گی۔
صورت مسئولہ میں ادارہ نےعمرہ کمیٹی کے لیے جو شرائط مقررکی ہیں،یعنی ہر ممبر کا کمیٹی مقررہ تاریخ کو جمع کرنا،قرعہ اندازی کے لیےتاریخ مقررکرنا،اس طرح اگر ممبربروقت کمیٹی جمع نہ کرے توقرعہ اندازی میں شامل نہ کرنا،اسی طرح کسی ممبر کی بی سی (کمیٹی) نکل آئےتواسے مخصوص شرائط کے ساتھ عمرہ پیکج دینا،یا رقم لینےکا اختیاردینا،اس طرح جس شخص کی قرعہ اندازی میں نام نکل آئےتو باقی اقساط کا پابند بنانااورکمیٹی بروقت جمع نہ کرنے کی صورت میں قانونی یا شرعی طریقہ پرحق کی وصولیابی کرنا،اسی طرح درمیان میں کسی نئےبندے کو شامل کرنے کے لیے اس سےپہلے اقساط وصول کرنا، اور قرعہ اندازی تمام شرکاکی موجودگی میں کرنا،یہ تمام شرائط جائز ہیں۔تاہم کمیٹی کے ممبران کی جو رقم ہے وہ ادارہ کے پاس امانت ہےاس لیے ادارہ یہ رقم بغیر اجازت کے استعمال نہیں کرسکتا،اگروہ اجازت دے پھراستعمال کرنا جائز ہے۔
قال اللہ تعالی:﴿يَٰٓأَيُّھَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ فَأْذَنُوا۟ بِحَرْبٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَٰلِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴾(البقرۃ:277/278)
وقولہ تعالی:﴿يَٰٓأَيُّھَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾(المائدہ:90)
لا بأس باستعمال القرعة في القسمة فقد استعمل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ذلك في قسمة الغنيمة مع نھيه صلوات الله عليه عن القمار فدل أن استعماله ليس من القمار.(مبسوط للسرخسي،کتاب القسمۃ،ج:15،ص:4)
(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.(رد المحتارعلى الدرالمختار،کتاب الحظر و الاباحۃ،ج:9،ص:577/578)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں