بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت تو فالتو ہیں، الفاظ کہنے کا نکاح پر اثر


سوال

حضرات مفتیان کرام آپ سےایک مسئلہ معلوم کرناہےبرائےمہربانی جلدازجلد حل فرمادیں کافی پریشان ہوں،سوال یہ ہےکہ میاں بیوی کےآپسی بحث ومباحثہ ہورہاتھاتوشوہرنےغصےمیں ایک تھپڑچہرےپرماردیاپھرکچھ دیرکےبعد دوبارہ بحث ومباحثہ میں بیوی نےکہاکہ تھپڑ کیوں ماراتوشوہرنےجواب دیاکہ زبان درازی کرنے پرتھپڑمارااورہلکی تنبیہ کےطورپرایک تھپڑمارنےکاحق توشریعت دیتی ہےتوبیوی نےجواب دیا کہ" ہاں عورت تو فالتو (زائد) ہیں ان کومارو"۔ تواب عورت کا فالتوکہنا غصے کی حالت میں،اس کاکیا حکم ہے؟کیا نکاح پر کوئی اثر پڑے گا، برائے کرم جلد جواب مرحمت فرمادیں عین نوازش ہوگی ۔ جزاکم اللہ 

جواب

واضح رہےکہ شریعتِ مطہرہ نےطلاق کااختیارصرف مرد کودیا ہے۔اس لیےعورت اگر طلاق کے صریح یا کنائی الفاظ استعمال کرےتواس سےشرعاً نکاح پرکوئی اثرنہیں پڑتا۔جب تک مردنےاسے طلاق کا اختیارنہ دیاہو۔

صورتِ مسئولہ میں اگر بیوی نےشوہرکےتھپڑمارنے پرغصےاورناراضی کے اظہار کےطورپریہ کہا ہوکہ "ہاں عورتیں توفالتوہیں، ان کومارو"، تواس جملےسےنکاح پرکوئی اثرنہیں پڑا۔

 

عن ابن عباس رضي الله عنه قال:الطلاق بالرجال والعدة بالنساء.(السنن الكبرى للبيھقي،رقم الحدیث،15568،ج:11،ص: 289 )


فتویٰ نمبر : 6684/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں