بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جی پی فنڈپراضافی رقم لینا


سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہوں اورمیں نےجی پی فنڈ کےمتعلق ایک سوال پوچھناتھا کہ میں نےایک فتویٰ پڑھاتھاجس میں لکھاتھا کہ اس پرحاصل ہونےوالی زیادتی جائزہے، لیکن اب سرکاری ملازمین کویہ اختیاردیاگیاہےکہ اگروہ اس کوبندکرناچاہتےہیں، تواسےبند کرسکتےہیں۔ تواب سوال پوچھنا یہ ہےکہ کیا اس اختیارکےباوجود یہ زیادتی لیناجائزہےیااس کوبندکرناضروری ہے؟

جواب

واضح رہےکہ جی پی فنڈمیں سرکاری ملازمین سےجورقم کاٹی جاتی ہے، اگریہ رقم ملازم سےجبراکاٹی جاتی ہواورملازم قانونی مجبوری کےپیش نظراس معاملہ میں مداخلت نہ کرسکتاہوتواس صورت میں جی پی فنڈمیں ملنےوالی رقم(اصل رقم بمع منافع)ملازم کےلیےحلال ہے، اوراگرجی پی فنڈ کی کٹوتی اختیاری ہو، تواس صورت میں یہ اضافی رقم لیناجائزنہیں۔نیزاگرکٹوتی توجبراًہولیکن اس فنڈکوسودی اکاؤنٹ میں جمع کرنےیا نہ کرنےکاملازم یا ملازمین کی نمائندہ کمیٹی کواختیارحاصل ہو، توایسی صورت میں بھی اضافی رقم لیناشبہ ربا کی وجہ سےجائزنہ ہوگا۔

 

 (قوله وعلله إلخ) علله الحانوتي بالتباعد عن شبهة الربا، لأنها في باب الربا ملحقة بالحقيقة. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الفرائض ،ج:6،ص: 757)

والنقدية أوجبت فضلا في المالية فتتحقق شبهة الربا وهي مانعة كالحقيقة. (الهداية، كتاب البيوع، باب الربا، ج:5، ص:178)


فتویٰ نمبر : 4080/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں