بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

گیلے کپڑے سے پونچھے گئے کارپٹ کی شرعی حیثیت


سوال

ایک لڑکے سے نادانی میں ناپاک کپڑوں پر پاؤں لگ گیا، جس کی وجہ سے پاؤں پر ناپاکی کی رطوبت (تری) لگ گئی۔ اسی گیلے پاؤں کے ساتھ وہ مسجد کے ایک بہت بڑے اور بھاری کارپٹ پر چل پڑا، جس سے کارپٹ پر ناپاکی منتقل ہو گئی۔ اس نے فوراً ہی اس جگہ کو تین مرتبہ گیلے کپڑے سے اچھی طرح پونچھ (Wipe) دیا ۔ بعد میں وہ کارپٹ خشک ہو گیا اور لوگوں نے اس پر عام روٹین کے مطابق نمازیں بھی ادا کر لیں۔چونکہ کارپٹ بہت بڑا اور بھاری ہے، اسے وہاں سے اٹھا کر دھونا اکیلے بس میں نہیں ہے۔اب میراسوال یہ ہے کہ ۱۔ کیا محض تین بار گیلے کپڑے سے پونچھ دینے سے کارپٹ کی وہ جگہ شرعاً پاک ہو گئی ہے؟2۔ جو لوگ اس کارپٹ کے سوکھنے کے بعد اس پر نمازیں پڑھ چکے ہیں، کیا ان کی نمازیں درست ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب بھاری کارپٹ پر نجاست لگ جائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ناپاک جگہ پرتین مرتبہ  پانی ڈالا جائےاور ہر مرتبہ  کسی تولیہ یا کپڑے وغیرہ سے خوب خشک کیا جائے یااتنی دیر تک چھوڑ دیا جائے کہ وہ جگہ خشک ہوجائے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کارپٹ پر  تین بار پانی ڈالے بغیرصرف گیلے کپڑے سے پونچھ کر خشک کیا گیاہوتو اس  سے وہ پاک نہیں ہوا،  اور جہاں تک کارپٹ سوکھنے کے بعد پڑھی جانے والی نمازوں کا تعلق ہے تو اگر اس نجس جگہ کے اوپر مصلیٰ (جائے نماز) بچھا کر نمازیں پڑھی گئی ہوں تو وہ نمازیں درست ہیں لیکن اگر نجس جگہ پر کوئی مصلیٰ وغیرہ بچھائے بغیر نمازیں پڑھی گئی ہوں تو وہ درست نہیں۔

 

وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرةلأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة. ( الفتاوى الهندية، کتاب الطہارۃ،الباب السابع في النجاسة وأحكامها،الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج:1، ص: 42)

وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لا يجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظا بحيث لا يكون كذلك جازت. (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوٰۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:626)


فتویٰ نمبر : 10983/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں