بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مروجہ کمیٹی میں مستقبل کی بیع کا عقد کرنا


سوال

 ہمارے علاقے میں اس طرح کی کمیٹی ڈالی جارہی ہے  کہ کل شرکاء اٹھارہ ہیں، ہر شریک دس ہزار ماہانہ دے گا کمیٹی   میں جمع شدہ کل رقم ایک لاکھ اسی ہزار بنتی ہیں کمیٹی اٹھارہ ماہ تک چلے گی اس میں قرعہ کے مطابق جس کا نام نکل آئے گا اس کو اسی مہینے کے ریٹ پر چاہے کم ہو یا زیادہ ہو کمیٹی کا منتظم  ایک موٹر سائیکل دے گا ۔ مثلا اگر  مارکیٹ میں بائیک کی قیمت ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے ہو توممبر کو بائیک دی جائے گی اور بقیہ رقم کمیٹی کا منتظم رکھے گا،  اور اگر بائیک کی قیمت  دولاکھ   ہو پھر بھی کمیٹی والے اس کو بائیک لا کر  دیں گے۔ البتہ یہ معاہدہ پہلے سے طے ہے، کہ موٹر سائیکل کی قیمت  چاہے  ایک لاکھ اسی ہزار سے کم ہو یا زیادہ ہو دونوں صورتوں میں ایک لاکھ اسی ہزار جمع کرانے ہوں گے۔ کیا یہ معاہدہ از روئے شرع درست ہے۔ کیا کمیٹی کا منتظم  خود اس میں شریک ہوسکتا ہے۔اگر خود شریک ہوگا تو کیا وہ ایک وقت میں دو عقد نہیں کررہا۔وکیل بھی ہے بائع بھی اور مشتری بھی ۔ کیا یہ بی سی کی بنیاد پر سود کا ایک حیلہ نہیں ہے؟۔ اس کا درست طریقہ بھی بتادیں۔

جواب

واضح رہے کہ مروجہ کمیٹی (بی سی)قرض کی ایک صورت ہے،اس میں  تمام  شرکا ایک خاص رقم جمع کرکے کسی شریک کو بطورِ قرعہ اندازی ساری رقم دیتے ہیں، کمیٹی کا منتظم بھی اس میں حصہ لے سکتا ہے مروجہ کمیٹی کی یہ صورت فی نفسہ جائز ہے، تاہم اگروہ دوسرے مفاسد پر مشتمل ہو تو جائز نہ ہوگی، مثلا:یہ کہ اس میں مستقبل کی تاریخ پر بیع ہو، یا مبیع کا ثمن متعین نہ ہو وغیرہ ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  چونکہ کمیٹی کے ممبران کا کمیٹی کے منتظم کے ساتھ مستقبل میں بائیک خریدنے کا عقد  ہوتا ہے جو کہ شرعا جائز نہیں ، نیز بائیک کی قیمت بھی متعین نہیں ہوتی  ، اس لیے یہ صورت ناجائزہے ،   اس کی جائز صورت یہ ہے کہ جس ممبر کےنام  قرعہ نکل آئے اس کو سارے پیسے ایک لاکھ اسی ہزار دیے جائیں ، پھر اس کی  مرضی ہے کہ  بائیک خریدے یا  کسی اور مقصد  کے لیے استعمال کرے۔

 

(وما تصح إضافته إلى) الزمان (المستقبل... فهي أربعة عشر... (وما لا تصح) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال كما لا تعلق بالشرط لما فيه من القمار.( رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب البیوع، ج:7، ص:517)

 (وشرط لصحته معرفة قدر) مبيع وثمن (ووصف ثمن) قوله: وشرط لصحته معرفة قدر مبيع وثمن ككر حنطة وخمسة دراهم أو أكرار حنطة. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب البیوع، ج:7، ص:48)

وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية. (بدائع الصنائع، كتاب القرض،  ج:10، ص:600)


فتویٰ نمبر : 4081/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں