بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بے نمازی کی قربانی


سوال

جو شخص ایک نماز بھی نہ پڑھتا ہو حتی کہ  جمعہ اورعیدین کی بھی تو کیا اس کی قربانی جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

 

جواب

واضح رہے کہ نماز اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے، اس  کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کرنا موجب عذاب  اور گناہ کبیرہ ہے ، تاہم اس کے قصدا چھوڑنے  سے آدمی فاسق ہوتا ہے، کافر نہیں ہوتا،  اور فاسق شخص کی  قربانی جائز ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جو شخص  نماز چھوڑنے کا عادی ہواس کی وجہ سے فاسق اور گناہ گار ہے، لیکن اس کی  قربانی  جائز ہے۔

 

عن أم أيمن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا تترك الصلاة متعمدا، فإنه من ترك الصلاة متعمدا، فقد  برئت منه ذمة الله ورسوله. (مسند أحمد، رقم الحديث: 4574، ج:45، ص:357)

عن عكرمة، أن ابن عباس لما سقط في عينيه الماء أراد أن يخرجه من عينيه، فقيل له إنك تستلقي سبعة أيام لا تصلي إلا مستلقيا قال: فكره ذلك وقال: إنه بلغني أنه من ترك الصلاة وهو يستطيع أن يصلي لقي الله تعالى وهو عليه غضبان. (السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث:3684 ج:2، ص:438)

 (ولا يقتل تارك الصلاة عمدا ما لم يجحد) لكن منكرها كافر لثبوتها بالأدلة القطعية التي لا احتمال فيها للريب فحكمه حكم المرتد وتاركها عمدا تكاسلا فاسق يحبس حتى يصلي. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الصلوة، ج:1، ص:147)

وأما في النوع الثالث فمنها الإسلام فلا تجب على الكافر لأنها قربة والكافر ليس من أهل القرب. (بدائع الصنائع، کتاب التضحية، ج:6، ص:28163)


فتویٰ نمبر : 10973/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں