بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

پیٹ سے غیر اختیاری آواز نکلنے کی وجہ سے وضو کا حکم


سوال

رمضان میں اکثر افطار کے بعد مغرب کی نماز میں پیٹ سے لہروں کی طرح کی آواز پیچھے سے آتی ہے وہ ریح کی آواز نہیں ہوتی  اور غیر اختیاری آواز ہوتی ہے ، تو کیا اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب پیچھے کی راہ سے ہوا نکل جائے اور اس کی آواز یا بدبو محسوس ہو جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اگر  پیٹ میں صرف  لہریں  دوڑتی ہوں، آواز اور بدبو محسوس نہ ہوتی ہو  تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

صورت مسئولہ  کے مطابق  جب صرف لہروں کی طرح آواز آتی ہو، اور ہوا کی آواز اور بدبو محسوس نہ ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

:

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا وضوء إلا من صوت أو ريح. (سنن الترمذي، أبواب الطهارة عن رسول الله، رقم الحديث:780، ج:1، ص:109)

قوله: (لا وضوء إلا من صوت أو ريح)  سماع الصوت وخروج الريح كناية عن تحقق الحدث وتيقنه، هكذا قاله الخظابي في "المعالم"... معناه حتی یتیقن. (معارف السنن، ج:1، ص:280)


فتویٰ نمبر : 10970/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں