بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیرون ملک میں مقیم آدمی کے لئے پاکستان میں قربانی


سوال

میرا چچا انگلینڈ میں رہائش پذیر ہے اور ہم ان کے حکم سے یہاں پر قربانی کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انگلینڈ میں عید کی نماز دیر سے ہوتی ہے تو کیا  جب ہم پاکستان میں  نماز پڑھ لے  تو کیا ہم اس کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں یا انگلینڈ میں نماز پڑھنے تک انتظار کرے؟ واضح رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ میں چار گھنٹے کا فرق  ہے۔

جواب

واضح رہے کہ شہر میں رہنے والے لوگوں کی قربانی کرنے کا وقت  10 ذی الحجہ  کی  نماز عید کےبعد شروع  ہوتا ہے اس سے قبل ان لوگوں کےلئے قربانی کرنا جائز نہیں اورجہاں نماز عید نہ پڑھی جاتی ہو(جیسے گاوں وغیرہ) تو وہاں پر 10  ذی الحجہ کےطلوع فجر کے بعد  قربانی کرناجائزہوجاتاہے  نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  کسی دوسرے کو قربانی کرنےکا وکیل بنائے تواس میں وکیل کی جگہ (جہاں جانور ذبح ہو رہا ہو) کا اعتبار ہوتاہےکہ اگر وکیل شہر کا رہنے والا ہو تو نماز عید پڑھنے کے بعد مؤکل کے لئے قربانی کر سکتا ہے اور اگروکیل  گاؤں کا رہنے والا ہو   تو طلوع فجر کے بعد مؤکل کے لئے قربانی کرسکتا ہے۔  بشرط يہ کہ  قربانی کا جانور ایسے دن میں ذبح کیا جائے جس میں دونوں  جگہ ایام عید (10، 11، 12 ذی الحجہ ) چل رہے ہو۔   اگر وکیل یا مؤکل کی جگہ میں سے کسی ایک میں بھی ایام عید نہ ہو،(  یعنی یا شروع نہ ہوئےہو یا ختم ہو چکا ہو)تو قربانی جائز نہ ہوگی    ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر انگلینڈ میں رہنے والا کوئی شخص پاکستان میں کسی کو قربانی کا وکیل بنائے، تو قربانی کے درست ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ ذبح کے وقت پاکستان اور انگلینڈ دونوں جگہ عید کے ایام (10، 11 یا 12 ذی الحجہ) چل رہے ہوں۔  پھر اگر پاکستان میں موجود وکیل (جو شہر یا مضافاتِ شہر میں رہتا ہو) عید کی نماز پڑھنے کے بعد  مؤکل(انگلینڈ میں رہنے والے شخص) کی طرف سے قربانی کر لے، تو اس کی طرف سے قربانی درست ہو جائے گی ،  اور اگر وکیل  گاؤںکا رہنے والا ہو تو 10ذی الحجہ کے طلوع فجر کے بعد مؤکل کے لئے قربانی کرسکتا ہے  بشرط یہ کہ مؤکل کے علاقے یعنی انگلینڈ میں بھی 10ذی الحجہ کا طلوع فجر ہو چکا ہو۔

 

لأن وقت الأضحية يدخل بطلوع الفجر من يوم النحر على ما ذكر في الكتاب وهو اليوم العاشر، ويفوت بغروب الشمس من اليوم الثاني عشر، فلا يجوز في ليلة النحر ألبتة لوقوعها قبل وقتها ولا في ليلة التشريق المحض لخروجه۔ (العناية شرح الهداية، ج:6، ص:92)

(الباب الرابع فيما يتعلق بالمكان والزمان) ولو أن رجلا من أهل السواد دخل المصر لصلاة الأضحى وأمر أهله أن يضحوا عنه جاز أن يذبحوا عنه بعد طلوع الفجر قال محمد - رحمه الله تعالى -: أنظر في هذا إلى موضع الذبح دون المذبوح عنه كذا في الظهيرية. وعن الحسن بن زياد بخلاف هذا والقول الأول أصح وبه نأخذ، كذا في الحاوي للفتاوى۔ ( الفتاوى الهندية:، ج: 5، ص: 342)


فتویٰ نمبر : 10967/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں