بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوتیلی نانی سے نکاح کرنا


سوال

ایک شخص نے نانا کی وفات کے بعد نانا کی دوسری بیوی سے شادی کی، جو کہ اس کی کزن تھی جس سے اس کے بچے بھی  پیدا ہوئے اب  کسی آدمی نے اس کو کہاکہ یہ  نکاح ناجائز ہے، اس لئے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کردی گئی ،اب بچے کس کے شمار ہونگے اور یہ شخص اس لڑکی کی چھوٹی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے شرعا یہ  نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نانا کی بیوی (سوتیلی نانی)محارم میں سے ہے اور محارم کے ساتھ اگر نکاح کیا جائے، تو امام ابوحنیفہ ؒکے ہاں وہ فاسد شمار ہوتا ہے، اور نکاح فاسد کا حکم یہ ہےکہ عاقدین کے درمیان  فورا علیحدگی کی جائے گی،البتہ اگر اس نکاح سے بچے پیدا ہوئے ہوں ، تو ان کا  نسب ثابت شمار ہو گا، نیز یہ کہ حرمت مصاہرت میں عورت اور مرد کے اصول و فروع   ایک دوسرے پر حرام ہوتے ہیں، اس کے علاوہ  رشتہ دار حرام نہیں ہوتے۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص نانا کی بیوی سے نکاح کرنے پر سخت گناہ گار ہے، البتہ  اس نکاح سے  پیدا ہونے والے بچوں کا نسب اس سے ثابت ہوگا، تاہم وہ اس عورت کی بہن کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے۔

 

)قوله: نكاحا فاسدا) هي المنكوحة بغير شهود، ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عنده خلافا لهما فتح. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب النکاح، ج:5، ص:197) ودخل تحت النكاح الفاسد النكاح بغير شهود ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل عند الإمام خلافا لهما. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب النکاح، ج:4، ص:235)

وتقدم في باب المهر أن الدخول في النكاح الفاسد موجب للعدة وثبوت النسب. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الطلاق، ج:5، ص:235)

لكن في البحر عن المجتبى: كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة، أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونها زنا كما في القنية وغيرها. اهـ.قلت: ويشكل عليه أن نكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد كما علمت مع أنه لم يقل أحد من المسلمين بجوازه. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الطلاق، ج:5، ص:195)

وتثبت بالوطء حلالا كان أو عن شبهة أو زنا، كذا في فتاوى قاضي خان. فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية، کتاب النکاح، ج:1، ص:339)


فتویٰ نمبر : 7480/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں